سہارے جانے پہچانے بنا لوں
ستونوں پر تِرے شانے بنا لوں
اجازت ہو تو اپنی شاعری سے
تِرے دو چار دیوانے بنا لوں
تِرا سایہ پڑا تھا جس جگہ پر
تِرے موزے یہیں پر رہ گئے ہیں
میں ان سے اپنے دستانے بنا لوں
ابھی خالی نہ کر خود کو ٹھہر جا
میں اپنی روح میں خانے بنا لوں
فہمی بدایونی
No comments:
Post a Comment