Monday, 10 August 2020

سہارے جانے پہچانے بنا لوں

سہارے جانے پہچانے بنا لوں
ستونوں پر تِرے شانے بنا لوں
اجازت ہو تو اپنی شاعری سے
تِرے دو چار دیوانے بنا لوں
تِرا سایہ پڑا تھا جس جگہ پر
میں اس کے نیچے تہہ خانے بنا لوں
تِرے موزے یہیں پر رہ گئے ہیں
میں ان سے اپنے دستانے بنا لوں
ابھی خالی نہ کر خود کو ٹھہر جا
میں اپنی روح میں خانے بنا لوں

فہمی بدایونی

No comments:

Post a Comment