اضطراب
کتنی ہی سوئی دوپہروں میں
کتنی ہی جلتی راتوں میں
ہر خواب ادھورا
مڑ مڑ کر
جانے کیا ڈھونڈا کرتا ہے
اضطراب
کتنی ہی سوئی دوپہروں میں
کتنی ہی جلتی راتوں میں
ہر خواب ادھورا
مڑ مڑ کر
جانے کیا ڈھونڈا کرتا ہے
بھٹکا مسافر
میں جب چھوٹا تھا
اپنی ماں سے اکثر
ضد یہ کرتا تھا
سناؤ دوپہر میں
تم مجھے کوئی کہانی
دل کو اجڑے ہوئے بیتے ہیں زمانے کتنے
کلک تقدیر نے لوٹے ہیں خزانے کتنے
بھول جاتا ہوں مگر سچ تو یہی ہے برسوں
تم سے وابستہ رہے خواب سہانے کتنے
دل دکھاتی ہی رہی گردش ایام مگر
ہم بھی مصروف رہے خود بھی نہ جانے کتنے
یہ کمرہ سانس لیتا تھا
میں اس میں زندہ رہتا تھا
کبھی وہ دن بھی تھے کہ
اس کمرے میں
ہلکی بارشوں کی پھوار کی صورت
تیرے میسج کے آنے پر
رات سے زیادہ وفادار نہیں ہے کوئی
زیست کے روز و شب
دنیا کے ہنگاموں میں مگن
دن کی اک ایک گھڑی
اوروں کی خدمت خاطر
لمحہ لمحہ اوروں کو جب دان کیا