Showing posts with label سلمان انصاری. Show all posts
Showing posts with label سلمان انصاری. Show all posts

Sunday, 13 March 2022

جانے کیا ڈھونڈا کرتا ہے

 اضطراب


کتنی ہی سوئی دوپہروں میں

کتنی ہی جلتی راتوں میں

ہر خواب ادھورا

مڑ مڑ کر

جانے کیا ڈھونڈا کرتا ہے

Saturday, 19 February 2022

بھٹکا مسافر میں جب چھوٹا تھا

 بھٹکا مسافر


میں جب چھوٹا تھا

اپنی ماں سے اکثر

ضد یہ کرتا تھا

سناؤ دوپہر میں

تم مجھے کوئی کہانی

Thursday, 20 January 2022

دل کو اجڑے ہوئے بیتے ہیں زمانے کتنے

 دل کو اجڑے ہوئے بیتے ہیں زمانے کتنے

کلک تقدیر نے لوٹے ہیں خزانے کتنے

بھول جاتا ہوں مگر سچ تو یہی ہے برسوں

تم سے وابستہ رہے خواب سہانے کتنے

دل دکھاتی ہی رہی گردش ایام مگر

ہم بھی مصروف رہے خود بھی نہ جانے کتنے

Sunday, 29 November 2020

یہ کمرہ سانس لیتا تھا میں اس میں زندہ رہتا تھا

 یہ کمرہ سانس لیتا تھا

میں اس میں زندہ رہتا تھا

کبھی وہ دن بھی تھے کہ

اس کمرے میں

ہلکی بارشوں کی پھوار کی صورت

تیرے میسج کے آنے پر

Saturday, 28 November 2020

رات سے زیادہ وفادار نہیں ہے کوئی

رات سے زیادہ وفادار نہیں ہے کوئی


 زیست کے روز و شب

دنیا کے ہنگاموں میں مگن

دن کی اک ایک گھڑی

اوروں کی خدمت خاطر

لمحہ لمحہ اوروں کو جب دان کیا