Thursday, 20 January 2022

دل کو اجڑے ہوئے بیتے ہیں زمانے کتنے

 دل کو اجڑے ہوئے بیتے ہیں زمانے کتنے

کلک تقدیر نے لوٹے ہیں خزانے کتنے

بھول جاتا ہوں مگر سچ تو یہی ہے برسوں

تم سے وابستہ رہے خواب سہانے کتنے

دل دکھاتی ہی رہی گردش ایام مگر

ہم بھی مصروف رہے خود بھی نہ جانے کتنے

ایک ہم اور یہ دشنام طرازی توبہ

اپنے اطراف رہے آئینہ خانے کتنے

اک نظر دیکھ لیا تھا کسی گل کی جانب

نکتہ چینوں نے تراشے ہیں فسانے کتنے

گر نہیں وصل تو پھر بادہ و ساغر ہی سہی

دل نے ڈھونڈے ہیں دھڑکنے کے بہانے کتنے

عمر رفتہ کو جو آواز کبھی دی ہم نے

کھل گئے زخم کئی، باب پرانے کتنے

غمزہ‌ و رمز میں سلمان تفاوت رکھتے

اور آئیں گے تمہیں ناز دکھانے کتنے


سلمان انصاری

No comments:

Post a Comment