سالہا بیت گئے خوشبوئے یاری نہ گئی
پھول مرجھا گئے اور بادِ بہاری نہ گئی
سوچ سے نوچ نہیں پایا اسے اس کی
طاق دیوار سے تصویر اتاری نہ گئی
وقت گزرا تو سبھی تند نشے ٹوٹ گئے
پر مئے وقت کی بے رحم خماری نہ گئی
مدتوں دشت و بیاباں میں پھرے ہیں، لیکن
کوئی لیلیٰ میں حجاز اپنی سواری نہ گئی
حجاز مہدی
مہدی نقوی حجاز
No comments:
Post a Comment