صبح ہوتے ہی دنیا
کتنی بھاری ہے مٹی کی آسودگی
نیند بھرتی نہیں، آنکھ کھلتی نہیں
اک سیہ دائرہ، جس کے چاروں طرف
بے کراں ہے افق، گھومتی ہے زمیں
ہر نئے دن کی پرتوں میں شامل یہاں
اک اکارت سا غم، سرد بے مائیگی
تہ میں وہم و گمان کے رچی بھی تو کیا
بس یہی سیمیائی سی ہمسائیگی
سلیم الرحمٰن
No comments:
Post a Comment