حر کہہ رہے ہیں آگ سے مولا نکال دیں
عاصی ہوں میرا نام شہیدوں میں ڈال دیں
مقتل میں الاماں کا ہے اب شور چار سُو
مجھ کو سخی یہ تیر کماں اور ڈھال دیں
آلؑ نبیﷺ بھی ناز کرے اس کے بخت پر
اپنا وہ جس کے واسطے بی بی رومال دیں
حر کہہ رہے ہیں آگ سے مولا نکال دیں
عاصی ہوں میرا نام شہیدوں میں ڈال دیں
مقتل میں الاماں کا ہے اب شور چار سُو
مجھ کو سخی یہ تیر کماں اور ڈھال دیں
آلؑ نبیﷺ بھی ناز کرے اس کے بخت پر
اپنا وہ جس کے واسطے بی بی رومال دیں
یار الفت عذاب لگتی ہے
اب محبت عذاب لگتی ہے
دوست دشمن نما جو ہوتے ہیں
ان سے رغبت عذاب لگتی ہے
اک شکایت سی جیسے گھر میں گئی
اب شکایت عذاب لگتی ہے
عزمِ جواں کے بعد میں ساکن نہیں رہا
پھر بھی ملن جناب کا ممکن نہیں رہا
لفظوں کی داستاں ہے ادھر کان مت اٹھا
پہلے دنوں سا مجھ پہ کوئی دن نہیں رہا
دن رات روشنی کے یہاں جشن کس لیے
تجھ سے تِرا یہ نور کوئی چھن نہیں رہا
زخمی ہیں پاؤں پاؤں کے چھالوں کی خیر ہو
اے خطۂ جنوں تِرے رستوں کی خیر ہو
گا کر کسی وجود کا نغمہ تمام رات
جلتے ہیں جو ہوا میں چراغوں کی خیر ہو
دیتے ہیں روز مجھ کو نئے ذائقوں کے زخم
اے شہرِ بے اماں! تِرے بندوں کی خیر ہو
تھوڑا سا اور مجھ کو تو اپنے قریب کر
نیکی اسی کا نام ہے میرے حبیب کر
کیا کیا نہیں سنا تِرے بارے میں آج کل
اٹھ کر دکھا دھمال یا کچھ تو عجیب کر
پہلے بھی مفلسی کی ہوں سدرہ پہ یار میں
دامن چھڑا کے اور نہ مجھ کو غریب کر
بڑے اسی کو ہی کہتے ہیں دل لگی مِرے دوست
کسی سے کچھ بھی نہ کہنا ہے زندگی مرے دوست
جہاں میں ایک بھی ایسا نظر نہیں آیا
کرے جو آ کے تمہاری برابری مرے دوست
بتا رہی ہیں مہکتی فضائیں گلیوں کی
گزر ہوا ہے تمہارا ابھی ابھی مرے دوست
چاہوں تو میں دنیائے خرابات میں گھوموں
یعنی کہ مسلسل ہی سماوات میں گھوموں
دیکھو کہ ہتھیلی پہ مِری جان پڑی ہے
مشکل نہیں دنیا تِرے خدشات میں گھوموں
ملتے ہیں مجھے روز تِرے شہر سے طعنے
ایسا ہے تجھے ڈھونڈنے اب رات میں گھوموں
آہوں سے اٹھ رہا ہے دھواں آج شام سے
بچھڑا ہے کوئی مجھ سے بڑے احترام سے
کر لے مِرے وجود کا انکار ہر جگہ
جانیں گے لوگ پھر بھی تجھے میرے نام
اس واسطے یہ پیڑ اداسی میں غرق ہیں
پنچھی گئے ہوئے ہیں سبھی ایک کام سے