Showing posts with label اسد رضا سحر. Show all posts
Showing posts with label اسد رضا سحر. Show all posts

Saturday, 13 July 2024

حر کہہ رہے ہیں آگ سے مولا نکال دیں

 حر کہہ رہے ہیں آگ سے مولا نکال دیں

عاصی ہوں میرا نام شہیدوں میں ڈال دیں

مقتل میں الاماں کا ہے اب شور چار سُو

مجھ کو سخی یہ تیر کماں اور ڈھال دیں

آلؑ نبیﷺ بھی ناز کرے اس کے بخت پر

اپنا وہ جس کے واسطے بی بی رومال دیں

Saturday, 20 April 2024

یار الفت عذاب لگتی ہے

 یار الفت عذاب لگتی ہے

اب محبت عذاب لگتی ہے

دوست دشمن نما جو ہوتے ہیں

ان سے رغبت عذاب لگتی ہے

اک شکایت سی جیسے گھر میں گئی

اب شکایت عذاب لگتی ہے

Saturday, 16 April 2022

عزم جواں کے بعد میں ساکن نہیں رہا

 عزمِ جواں کے بعد میں ساکن نہیں رہا

پھر بھی ملن جناب کا ممکن نہیں رہا

لفظوں کی داستاں ہے ادھر کان مت اٹھا

پہلے دنوں سا مجھ پہ کوئی دن نہیں رہا

دن رات روشنی کے یہاں جشن کس لیے

تجھ سے تِرا یہ نور کوئی چھن نہیں رہا

Tuesday, 8 March 2022

زخمی ہیں پاؤں پاؤں کے چھالوں کی خیر ہو

 زخمی ہیں پاؤں پاؤں کے چھالوں کی خیر ہو

اے خطۂ جنوں تِرے رستوں کی خیر ہو

گا کر کسی وجود کا نغمہ تمام رات

جلتے ہیں جو ہوا میں چراغوں کی خیر ہو

دیتے ہیں روز مجھ کو نئے ذائقوں کے زخم

اے شہرِ بے اماں! تِرے بندوں کی خیر ہو

Tuesday, 25 January 2022

تھوڑا سا اور مجھ کو تو اپنے قریب کر

 تھوڑا سا اور مجھ کو تو اپنے قریب کر

نیکی اسی کا نام ہے میرے حبیب کر

کیا کیا نہیں سنا تِرے بارے میں آج کل

اٹھ کر دکھا دھمال یا کچھ تو عجیب کر

پہلے بھی مفلسی کی ہوں سدرہ پہ یار میں

دامن چھڑا کے اور نہ مجھ کو غریب کر

Thursday, 23 December 2021

بڑے اسی کو ہی کہتے ہیں دل لگی مرے دوست

 بڑے اسی کو ہی کہتے ہیں دل لگی مِرے دوست

کسی سے کچھ بھی نہ کہنا ہے زندگی مرے دوست

جہاں میں ایک بھی ایسا نظر نہیں آیا

کرے جو آ کے تمہاری برابری مرے دوست

بتا رہی ہیں مہکتی فضائیں گلیوں کی

گزر ہوا ہے تمہارا ابھی ابھی مرے دوست

Wednesday, 22 December 2021

چاہوں تو میں دنیائے خرابات میں گھومو

 چاہوں تو میں دنیائے خرابات میں گھوموں

یعنی کہ مسلسل ہی سماوات میں گھوموں

دیکھو کہ ہتھیلی پہ مِری جان پڑی ہے

مشکل نہیں دنیا تِرے خدشات میں گھوموں

ملتے ہیں مجھے روز تِرے شہر سے طعنے

ایسا ہے تجھے ڈھونڈنے اب رات میں گھوموں

Monday, 12 April 2021

آہوں سے اٹھ رہا ہے دھواں آج شام سے

 آہوں سے اٹھ رہا ہے دھواں آج شام سے

بچھڑا ہے کوئی مجھ سے بڑے احترام سے

کر لے مِرے وجود کا انکار ہر جگہ

جانیں گے لوگ پھر بھی تجھے میرے نام

اس واسطے یہ پیڑ اداسی میں غرق ہیں

پنچھی گئے ہوئے ہیں سبھی ایک کام سے