چاہوں تو میں دنیائے خرابات میں گھوموں
یعنی کہ مسلسل ہی سماوات میں گھوموں
دیکھو کہ ہتھیلی پہ مِری جان پڑی ہے
مشکل نہیں دنیا تِرے خدشات میں گھوموں
ملتے ہیں مجھے روز تِرے شہر سے طعنے
ایسا ہے تجھے ڈھونڈنے اب رات میں گھوموں
اب تک تو سنی ہیں میں نے واعظ تِری باتیں
اب دل ہے کہ میں شہرِ خرافات میں گھوموں
حالاں کہ میں صادق ہوں، مِرا نیک نسب ہے
کہتے ہیں مجھے لوگ میں اوقات میں گھوموں
ویسے تو میں خوابوں کا بھرم توڑ چکا ہے
آنکھیں مِری کہتی ہیں میں صدمات میں گھوموں
اسد رضا سحر
No comments:
Post a Comment