سوچیں نہ منقسم ہوں اگر شش جہات میں
اسرارِ کُن کا فلسفہ ہے کائنات میں
آنکھوں کی سر زمین کے جنگی محاذ پر
نیندوں کا اک ہجوم ہے خوابوں کے گھات میں
اب آسماں زمین میں جتنا بھی ہو تضاد
طبقوں میں بٹ گئے ہیں برابر یہ سات میں
سوچیں نہ منقسم ہوں اگر شش جہات میں
اسرارِ کُن کا فلسفہ ہے کائنات میں
آنکھوں کی سر زمین کے جنگی محاذ پر
نیندوں کا اک ہجوم ہے خوابوں کے گھات میں
اب آسماں زمین میں جتنا بھی ہو تضاد
طبقوں میں بٹ گئے ہیں برابر یہ سات میں
گھروندے ساحلوں پر ہوں تو اکثر ڈُوب جاتے ہیں
کبھی فوراً، کبھی کچھ دیر بہہ کر ڈوب جاتے ہیں
کوئی زخمی بھی ڈٹ جائے تو حملہ روک لیتا ہے
وگرنہ، موت کے دریا میں لشکر ڈوب جاتے ہیں
خش و خاشاک تو بہہ کر کنارے لگ ہی جاتے ہیں
اُترتے ہی مگر پانی میں پتھر ڈوب جاتے ہیں
دلوں میں کس نے اُتارا مزاج پتھر کا
لگا ہے مجھ کو تو سارا سماج پتھر کا
تمہارے شہر سے گُزرا تو یہ کُھلا مجھ پہ
بدل سکے گا نہ بدلا رواج پتھر کا
عجیب طرز کی دنیا میں آ گیا ہوں میں
جہاں زمین ہے شیشہ، سراج پتھر کا
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
واقفِ علمِ تفریق و تقسیم سن
شرق تا غرب سب فاصلے کھینچ دے
تا ابد تیرے حملے کے چرچے رہیں
وہ طوالت بھرے سلسلے کھینچ دے
طائرانہ صلاحیّتیں آزما
آج سے کچھ نئے مرحلے کھینچ دے
کرونائی غزل
ہزار ہا سوال ہیں، جواب صرف احتیاط
ہےعالمی وبا کا سدِباب، صرف احتیاط
دہان، قم، دبئی، ریاض، روم، کیلی فورنیا
بھرے جہاں کا حال ہے خراب، صرف احتیاط
اگر مجالس اور محفلوں کا دور چاہیے
کرو مصافحوں سے اجتناب، صرف احتیاط
اپنے انداز ميں کچھ رد و بدل کرتے ہوئے
میں نے تصویر بنا دی ہے غزل کرتے ہوئے
یہ محبت تو ریاضی سے بھی پیچیدہ تھی
مسئلے بڑھتے گئے مسئلہ حل کرتے ہوئے
مجھ کو خدشہ ہے اسی کو ہی گنوا بیٹھوں گا
میں اسی شخص کی باتوں پہ عمل کرتے ہوئے
من کی ممتا سے لپٹ روئیں گے جذبات کے دُکھ
ہم نے بچوں کی طرح پالے ہیں سادات کے دکھ
میں تِرے ہجر کی حِدت پہ غزل کہتا رہا
اور مِری چھت سے ٹپکتے رہے برسات کے دکھ
ہر نئے سال کے بس دن ہی گِنے جاتے ہیں
اہلِ مکتب کی ریاضی میں کہاں رات کے دکھ
حاجت رہی نہ مجھ میں قیام و قعُود کی
تعمیر ہو رہی تھی بدن میں سجُود کی
آنکھیں ہیں یادِ یار کی آمد کا معجزہ
سر سبز ہو رہی ہیں یہ شاخیں وجُود کی
جب مجھ میں ارتقائی عمل ماند پڑ گیا
توڑی گئی کسی سے نہ حالت جمُود کی