گھروندے ساحلوں پر ہوں تو اکثر ڈُوب جاتے ہیں
کبھی فوراً، کبھی کچھ دیر بہہ کر ڈوب جاتے ہیں
کوئی زخمی بھی ڈٹ جائے تو حملہ روک لیتا ہے
وگرنہ، موت کے دریا میں لشکر ڈوب جاتے ہیں
خش و خاشاک تو بہہ کر کنارے لگ ہی جاتے ہیں
اُترتے ہی مگر پانی میں پتھر ڈوب جاتے ہیں
بہت عشاق اب تک وصل کے دریا میں ہیں ڈوبے
سو ہم آ کر تِری آنکھوں کے اندر ڈوب جاتے ہیں
میں غرقِ بحرِ اُلفت ہوں تو پھر اس میں عجب کیا ہے
محبت کے سمندر میں سکندر ڈوب جاتے ہیں
اُترتے ہیں سبھی دریا سمندر میں، مگر نصرت
ہُنرمندوں کے کوزوں میں سمندر ڈوب جاتے ہیں
نصرت عارفین
No comments:
Post a Comment