Saturday, 9 October 2021

درد کے گیت سنا کر لے جائے

 درد کے گیت سنا کر لے جائے

جب وہ چاہے منا کر لے جائے

آئے تو انجمن آرائی ہو

جائے تو بزم اٹھا کر لے جائے

اپنی ہستی تو ہے تنکے کی طرح

جانے کب موج بہا کر لے جائے

دل کی ہر شے ہے امانت اس کی

وہ جسے چاہے اسے اٹھا کر لے جائے

خود ہی ناراض کرے وہ مجھ کو

اور پھر خود ہی منا کر لے جائے


ایوب رومانی

No comments:

Post a Comment