درد کے گیت سنا کر لے جائے
جب وہ چاہے منا کر لے جائے
آئے تو انجمن آرائی ہو
جائے تو بزم اٹھا کر لے جائے
اپنی ہستی تو ہے تنکے کی طرح
جانے کب موج بہا کر لے جائے
دل کی ہر شے ہے امانت اس کی
وہ جسے چاہے اسے اٹھا کر لے جائے
خود ہی ناراض کرے وہ مجھ کو
اور پھر خود ہی منا کر لے جائے
ایوب رومانی
No comments:
Post a Comment