درد و احساس کی تصویر غزل میں آئے
پھر کسی خواب کی تعبیر غزل میں آئے
اتنی وحشت کہ زمانوں کے پرانے قصے
اب الگ سی کوئی تاثیر غزل میں آئے
میرے ہاتھوں کی لکیروں کو ذرا غور سے دیکھ
تا کہ تجھ حُسن کی تصویر غزل میں آئے
درد، الجھن یا ملاقات پریشانی و ہجر
ایسے لمحوں کی بھی تفسیر غزل میں آئے
یوں لکھوں نوحہ تِرے نام مِرے عشق کبھی
درد سے درد کی تنویر غزل میں آئے
چشمِ پُرنم سے لکھوں حرفِ سخن تیرے لیے
اور محبت کی یہ تعمیر غزل میں آئے
لیلیٰ مجنوں کی کہانی تو کئی بار سنی
اب کے رانجھے کی نئی ہیر غزل میں آئے
اسماء ہادیہ
No comments:
Post a Comment