Showing posts with label اقبال انجم. Show all posts
Showing posts with label اقبال انجم. Show all posts

Friday, 30 July 2021

غم ہو کہ خوشی کوئی تماشا نہیں کرتے

 غم ہو کہ خوشی کوئی تماشا نہیں کرتے

کچھ لوگ کسی بات کا چرچا نہیں کرتے

بے وجہ تو ہوتی نہیں آنگن کی خموشی

بچوں کو ہر اک بات پہ ٹوکا نہیں کرتے

انسان کی فطرت کا عجب حال ہے یارو

کچھ پیڑ گھنے ہوتے ہیں سایہ نہیں کرتے

چھوٹی ہی سہی بات کی تاثیر تو دیکھو

 چھوٹی ہی سہی بات کی تاثیر تو دیکھو

تھوڑا سا مگر زہر بجھا تیر تو دیکھو

پل بھر میں بکھر جائیں گے مٹی کے گھروندے

بچوں کی مگر حسرتِ تعمیر تو دیکھو

کس کس کے تعاقب میں بھٹکتی رہی آنکھیں

ٹوٹے ہوئے اک خواب کی تعبیر تو دیکھو

Thursday, 29 July 2021

خواب کا ہمسفر رہا ہوں میں

 خواب کا ہمسفر رہا ہوں میں

مُدتوں در بدر رہا ہوں میں

وہ یہیں آس پاس ہے میرے

اس کو محسوس کر رہا ہوں میں

اس کو پہچانتا ہوں ہر رُخ سے

اس کے نزدیک تر رہا ہوں میں

Saturday, 6 March 2021

عجب نہیں جو یہ منظر بھی سامنے آئے

 عجب نہیں جو یہ منظر بھی سامنے آئے

قدم جہاں بھی رکھیں ہم زمیں نکل جائے

یہ کیا مقام ہے جب بھی نظر اٹھاتا ہوں

بلندیوں کا عجب سلسلہ نظر آئے

اجاڑ دیکھ کے بستی کو دل اداس ہوا

کھڑے تھے جھنڈ کھجوروں کے بال بکھرائے

Saturday, 28 November 2020

دشت طلب میں کب سے اکیلا کھڑا ہوں میں

دشتِ طلب میں کب سے اکیلا کھڑا ہوں میں

 جس کا نہیں جواب کوئی وہ صدا ہوں میں

کس کی تلاش ہے؟ مجھے اپنے وجود میں

وہ کون کھو گیا ہے جسے ڈھونڈھتا ہوں میں

یہ میں نے کب کہا تھا کہ؛ ٹھہرو مرے لیے

دیکھا تو ہوتا مُڑ کے کہاں رہ گیا ہوں میں