غم ہو کہ خوشی کوئی تماشا نہیں کرتے
کچھ لوگ کسی بات کا چرچا نہیں کرتے
بے وجہ تو ہوتی نہیں آنگن کی خموشی
بچوں کو ہر اک بات پہ ٹوکا نہیں کرتے
انسان کی فطرت کا عجب حال ہے یارو
کچھ پیڑ گھنے ہوتے ہیں سایہ نہیں کرتے
غم ہو کہ خوشی کوئی تماشا نہیں کرتے
کچھ لوگ کسی بات کا چرچا نہیں کرتے
بے وجہ تو ہوتی نہیں آنگن کی خموشی
بچوں کو ہر اک بات پہ ٹوکا نہیں کرتے
انسان کی فطرت کا عجب حال ہے یارو
کچھ پیڑ گھنے ہوتے ہیں سایہ نہیں کرتے
چھوٹی ہی سہی بات کی تاثیر تو دیکھو
تھوڑا سا مگر زہر بجھا تیر تو دیکھو
پل بھر میں بکھر جائیں گے مٹی کے گھروندے
بچوں کی مگر حسرتِ تعمیر تو دیکھو
کس کس کے تعاقب میں بھٹکتی رہی آنکھیں
ٹوٹے ہوئے اک خواب کی تعبیر تو دیکھو
خواب کا ہمسفر رہا ہوں میں
مُدتوں در بدر رہا ہوں میں
وہ یہیں آس پاس ہے میرے
اس کو محسوس کر رہا ہوں میں
اس کو پہچانتا ہوں ہر رُخ سے
اس کے نزدیک تر رہا ہوں میں
عجب نہیں جو یہ منظر بھی سامنے آئے
قدم جہاں بھی رکھیں ہم زمیں نکل جائے
یہ کیا مقام ہے جب بھی نظر اٹھاتا ہوں
بلندیوں کا عجب سلسلہ نظر آئے
اجاڑ دیکھ کے بستی کو دل اداس ہوا
کھڑے تھے جھنڈ کھجوروں کے بال بکھرائے
دشتِ طلب میں کب سے اکیلا کھڑا ہوں میں
جس کا نہیں جواب کوئی وہ صدا ہوں میں
کس کی تلاش ہے؟ مجھے اپنے وجود میں
وہ کون کھو گیا ہے جسے ڈھونڈھتا ہوں میں
یہ میں نے کب کہا تھا کہ؛ ٹھہرو مرے لیے
دیکھا تو ہوتا مُڑ کے کہاں رہ گیا ہوں میں