Saturday, 6 March 2021

عجب نہیں جو یہ منظر بھی سامنے آئے

 عجب نہیں جو یہ منظر بھی سامنے آئے

قدم جہاں بھی رکھیں ہم زمیں نکل جائے

یہ کیا مقام ہے جب بھی نظر اٹھاتا ہوں

بلندیوں کا عجب سلسلہ نظر آئے

اجاڑ دیکھ کے بستی کو دل اداس ہوا

کھڑے تھے جھنڈ کھجوروں کے بال بکھرائے

مِری نگاہ میں اک رنگ اب بھی باقی ہے

میں چاہتا ہوں کہ وہ بھی کبھی بکھر جائے


اقبال انجم

No comments:

Post a Comment