Saturday, 6 March 2021

وہ بدن پھول کی باہوں میں پلا ہو جیسے

 وہ بدن پھول کی باہوں میں پلا ہو جیسے

اس قدر نرم کہ خوابوں میں ڈھلا ہو جیسے

زندگی ٹوٹتے شیشوں کی صدا ہو جیسے

زندگی کانپتے ہونٹوں کی دعا ہو جیسے

اس طرح دل میں تِری یاد کی خوشبو آئی

دشتِ ویراں میں کوئی پھول کھلا ہو جیسے

جب ملاقات ہوئی ان سے تو یوں ہنس کے ملے

کوئی شکوہ نہ شکایت نہ گِلا ہو جیسے

زندگی دی ہے دلوں کو مِرے گیتوں نے شہاب

میری آواز حقائق کی صدا ہو جیسے


شہاب اشرف

No comments:

Post a Comment