راہ دیکھوں تو مِری تابِ نظر جاتی ہے
یہ نظر ہے کہ جو تا حدِ نظر جاتی ہے
میں نے سوچا تھا کہ یہ موج گزر جائے گی
میں سمجھتا تھا کہ ہر موج گزر جاتی ہے
اک مِرا دل کہ سمندر سے نہ سیراب ہوا
اور یہ آنکھ کہ اک اشک سے بھر جاتی ہے
جانے کس موج میں رہتا ہے سمے کا دریا
جانے کس مد میں یہاں عمر گزر جاتی ہے
سوچنا ہے کہ میں کس آگ میں جلتا ہوں سلیم
دیکھنا ہے کہ مِری راکھ کدھر جاتی ہے
سلیم ساگر
No comments:
Post a Comment