Showing posts with label شبیر نازش. Show all posts
Showing posts with label شبیر نازش. Show all posts

Saturday, 30 December 2023

ہم نے کب درہم و دینار کی خواہش کی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہم نے کب درہم و دینار کی خواہش کی ہے

جب بھی کی، آپؐ کے دیدار کی خواہش کی ہے

اول اول جہاں "اِقراء" کی صدا گُونجی تھی

دِیدہ و دل نے اُسی غار کی خواہش کی ہے

کیا ہی اچھا ہو، سُنا دے کوئی مُژدہ آ کر

آپﷺ نے مجھ دلِ بیمار کی خواہش کی ہے

Friday, 20 October 2023

نہیں ہو سکتا مرے یار نہیں ہو سکتا

 نہیں ہو سکتا مِرے یار! نہیں ہو سکتا

عشق عاشق کا طرفدار نہیں ہو سکتا

مر رہا ہے جو مِری ایک جھلک کی خاطر

اس کا کہنا تھا اسے پیار نہیں ہو سکتا

چاند سورج کو بھی آغوش میں لے لیتا ہے

اور اس بات سے انکار نہیں ہو سکتا

Thursday, 25 May 2023

گر نہیں وصف تو پھر عیب اچھالے میرے

 گر نہیں وصف تو پھر عیب اچھالے میرے

عشق میں کچھ تو رہیں زندہ حوالے میرے

خوش نہیں آیا مجھے اس کا مزاجِ تشکیک

خوش نہیں آئے اسے ڈھنگ نرالے میرے

وہ عجب ساعتِ خوشرنگ میں بچھڑا مجھ سے

رنج و غم بھی نہ کِیے اس نے حوالے میرے

Sunday, 24 April 2022

دل کے چرخے پہ سوت سانسوں کا

 دل کے چرخے پہ سُوت سانسوں کا

کاتے جاتے ہیں اور زندہ ہیں

ہو گئی غیر وہ گلی، پھر بھی

آتے جاتے ہیں اور زندہ ہیں

اہلِ دل بول اک محبت کا

گاتے جاتے ہیں اور زندہ ہیں

Wednesday, 23 March 2022

ہماری آنکھ میں وحشت نہیں تو پھر کیا ہے

 ہماری آنکھ میں وحشت نہیں تو پھر کیا ہے

ہمیں یہ ہجر غنیمت نہیں تو پھر کیا ہے

دھڑک رہے ہیں بہم خوبصورتی سے جو ہم

ہمارے بیچ محبت نہیں تو پھر کیا ہے

یہ مسکرانا،۔ ادائیں دکھانا،۔ اٹھلانا

تِری طرف سے سِفارت نہیں تو پھر کیا ہے

Sunday, 20 March 2022

گزر رہے تھے شب و روز شادمانی سے

 گزر رہے تھے شب و روز شادمانی سے

نِکل گیا وہ اچانک مِری کہانی سے

نجانے کِس لیے مجھ سے وہ بدگمان ہوا

کبھی مِلا ہی نہیں مَیں تو بدگمانی سے

اسی نے کہہ دیا آخر کہ تم فریبی ہو

جسے عزیز رکھا اپنی زندگانی سے

Wednesday, 2 February 2022

رکی ہوئی ہیں گردشیں نظام چل نہیں رہا

 رکی ہوئی ہیں گردشیں، نظام چل نہیں رہا

گیا وہ جب سے چھوڑ کے، سمے بدل نہیں رہا

ہر ایک شے ہے آس پاس جوں کی توں رواں دواں

مگر مِری گرفت میں وہ ایک پل نہیں رہا

میانِ وصل، یک نفس وہ یوں کھلا کہ اس گھڑی

ابد ابد نہیں رہا،۔ ازل ازل نہیں رہا

Monday, 10 January 2022

سنا کے رنج و الم مجھ کو الجھنوں میں نہ ڈال

 سنا کے رنج و الم مجھ کو الجھنوں میں نہ ڈال

تھکن کا خوف مِرے عزم کی رگوں میں نہ ڈال

میں اس جہان کو کچھ اور دینا چاہتا ہوں

تُو کار وقت کے پُر ہول چکروں میں نہ ڈال

ملول دیکھ کے تجھ کو میں رک نہ جاؤں کہیں

خدارا! ہجر کی شدت کو آنسوؤں میں نہ ڈال

Monday, 6 September 2021

آخر میری بوڑھی آنکھیں لاشوں کے انبار پہ کب تک بین کریں

 زمین


آخر میری بوڑھی آنکھیں

لاشوں کے انبار پہ کب تک بین کریں

تم لوگوں سے اک دُکھیاری کہتی ہے

تم جس بھی خدا کو مانتے ہو

اس کے نام پہ

بس کر دو

Sunday, 30 May 2021

میں دیکھوں تو مجھ پہ محبت کھلتی ہے

 میں دیکھوں تو مجھ پہ محبت کھلتی ہے

وہ دیکھے تو اور حقیقت کھلتی ہے

وہ دل جس پر ہجر میں ہجرت کھلتی ہے

صرف اسی پر رمزِ شہادت کھلتی ہے

جیتے جی آزار سمجھتے ہیں جن کو

وہ نہ رہیں تو قدر و قیمت کھلتی ہے

Tuesday, 6 April 2021

نہیں ہو سکتا مرے یار نہیں ہو سکتا

 نہیں ہو سکتا مِرے یار نہیں ہو سکتا

عشق عاشق کا طرفدار نہیں ہو سکتا

مر رہا ہے جو مِری ایک جھلک کی خاطر

اس کا کہنا تھا اسے پیار نہیں ہو سکتا

چاند سورج کو بھی آغوش میں لے لیتا ہے

اور اِس بات سے انکار نہیں ہو سکتا

Saturday, 20 March 2021

جب بھی اس راہ سے وہ رشک بتاں گزرے گا

 جب بھی اس راہ سے وہ رشکِ بُتاں گُزرے گا

دل میں ٹھہرے گا یقیں اور گماں گزرے گا

ہائے، وہ وقت کہ جب تم نہ میسر ہو گے

ہائے، وہ وقت گزارے سے کہاں گزرے گا

اس طرف منہ نہیں کرتا کوئی ڈرتا، لیکن

ہم جو گزرے تو ادھر سے بھی جہاں گزرے گا

Sunday, 3 January 2021

خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا

 خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا

دل مکمل کبھی تسخیر نہیں ہو سکتا

آج روٹھے ہوئے ساجن نے بلایا ہے مجھے

آج تو کچھ بھی عناں گیر نہیں ہو سکتا

ہو نہ ہو یہ کوئی اپنا ہی کھلا ہے مجھ پر

میرے دشمن کا تو یہ تیر نہیں ہو سکتا

Wednesday, 16 December 2020

اپنی الگ ہی سمت میں راہیں نکال کر

 اپنی الگ ہی سمت میں راہیں نکال کر

وہ لے گیا ہے جسم سے سانسیں نکال کر

لوٹے تو یہ نہ سوچے کہ خط جھوٹ موٹ تھے

میں رکھ چلا ہوں بام پر آنکھیں نکال کر

میرے کفن کے بند نہ باندھو ابھی مجھے

ملنا ہے ایک شخص سے بانہیں نکال کر

Tuesday, 15 December 2020

کم ترے ضبط کی قیمت نہیں کرنے والے

 کم ترے ضبط کی قیمت نہیں کرنے والے

ہم تری آنکھ سے ہجرت نہیں کرنے والے

اپنے نزدیک محبت ہے عبادت کی طرح

ہم عبادت کی تجارت نہیں کرنے والے

یہ الگ بات کہ اظہار نہیں کر سکتے

یہ نہ سمجھو کہ محبت نہیں کرنے والے

Monday, 14 December 2020

‏خسارے ہی خسارے میں ہوئی تھی

 ‏خسارے ہی خسارے میں ہوئی تھی

محبت استعارے میں ہوئی تھی

اور اس کے بعد سب کچھ بہہ گیا تھا

بس اک جنبش کنارے میں ہوئی تھی

مجھے پیکر میں جب لایا گیا تھا

نموداری ستارے میں ہوئی تھی

در کی سنی نہ تم نے دریچے کی گفتگو

 در کی سنی نہ تم نے دریچے کی گفتگو

آتے ہی کرنے لگ گئے کانٹے کی گفتگو

دنیا تری سمجھ میں نہ آئے، نہ آئیں گے

میں اور میری وقت سے آگے کی گفتگو

کس کو خبر تھی ہو گا وہ یوں مجھ سے ہمکلام

صدیوں پہ پھیل جائے گی لمحے کی گفتگو

Sunday, 13 December 2020

لاکھ دیکھے حسین چہرے تو

 لاکھ دیکھے حسین چہرے تو

ایسی حالت نہیں تھی پہلے تو

اک نظر دیکھنے پہ یہ عالم

اک نظر اور دیکھ لیتے تو؟

وہ تو ہم نے تمہیں سنبھال لیا

ہم بھی گر ہوش میں نہ ہوتے تو