Sunday, 20 March 2022

گزر رہے تھے شب و روز شادمانی سے

 گزر رہے تھے شب و روز شادمانی سے

نِکل گیا وہ اچانک مِری کہانی سے

نجانے کِس لیے مجھ سے وہ بدگمان ہوا

کبھی مِلا ہی نہیں مَیں تو بدگمانی سے

اسی نے کہہ دیا آخر کہ تم فریبی ہو

جسے عزیز رکھا اپنی زندگانی سے

ہمارے بیچ جو لمحے مثالِ گل مہکے

مجھے تو خواب وہ لگتے ہیں آسمانی سے

مہک رہا ہے بدن اور چہک رہا ہے خیال

تمہارے لمس کی گلرنگ مہربانی سے

جلا کے ناؤ رکھا تھا تِری زمیں پہ قدم

نکلنا اب کہاں ممکن ہے راجدھانی سے

ہم اس قدر تِرے ہجراں میں اشکبار ہوئے

ہماری آنکھ میں سبزہ اگ آیا پانی سے


شبیر نازش

No comments:

Post a Comment