Sunday, 20 March 2022

دکھ نہیں اس بات کا شاعر نہ ہم مانے گئے

 دُکھ نہیں اس بات کا شاعر نہ ہم مانے گئے

دکھ تو یہ ہے بزم میں ہم اجنبی جانے گئے

دور تک اس کی محبت کے جو افسانے گئے

لوگ سارے شہر کے تھے سنگ برسانے گئے

کس قدر چھائی ہوئی تھی چار سُو افسردگی

کس لیے اس بزم میں ہم دل کو بہلانے گئے

شہر بھر کی انگلیاں کیوں اٹھ گئی تھیں جب کبھی

ہم تِری دیوار کے سائے میں سستانے گئے

ڈھونڈنے روشن ستارہ کوئی اپنے بخت کا

ہم نجومی کو بھی اپنا ہاتھ دکھلانے گئے

اپنی آنکھوں میں لیے وہ روشنی ہی روشنی

دار تک دیکھو کہ کیسے کیسے دیوانے گئے

ڈھونڈنے اپنے دلوں کے واسطے صبر و قرار

مسجدوں میں ہم گئے جب لوگ مے خانے گئے

پاؤں سے لپٹی تھی ایسے خانہ ویرانی کی ریت

ہم وہ وحشی تھے، ہمارے ساتھ ویرانے گئے

میں کہ فرحت زیست کی ان الجھنوں میں قید تھی

اپنے اپنے مسئلے جب لوگ سُلجھانے گئے


فرزانہ فرحت

No comments:

Post a Comment