Showing posts with label نقاش عابدی. Show all posts
Showing posts with label نقاش عابدی. Show all posts

Thursday, 3 November 2022

تم نے اب سیکھ لیا مجھ کو ستائے رکھنا

 تم نے اب سیکھ لیا مجھ کو ستائے رکھنا

ایک محشر سا مِرے دل میں اٹھائے رکھنا

ایسا کرنا کہ مِرے نام کو دل پر لکھ کر

پردۂ ذہن کو توقیر دلائے رکھنا

میں بھی رکھوں گا تمہیں سوچ کے شانوں پہ سوار

تم بھی سینے سے مِری آس لگائے رکھنا

Thursday, 3 February 2022

اب تو روٹھ جانے کا وقت ہی نہیں ملتا

 اب تو روٹھ جانے کا وقت ہی نہیں ملتا

تجھ کو آزمانے کا وقت ہی نہیں ملتا

سو چکے ہیں جو ارماں یاس کے شبستاں میں

اب انہیں جگانے کا وقت ہی نہیں ملتا

کس طرح بلائیں اب تجھ کو دید کی خاطر

راستہ سجانے کا وقت ہی نہیں ملتا

Wednesday, 29 December 2021

رہنماؤں کی بات کرتے ہو

 رہنماؤں کی بات کرتے ہو

پارساؤں کی بات کرتے ہو

جو اڑا لیں سروں سے آنچل بھی

ان ہواؤں کی بات کرتے ہو

جل رہی ہے زمیں کی کوکھ مگر

تم خلاؤں کی بات کرتے ہو

Monday, 20 December 2021

ہاتھ خالی سر بازار لیے پھرتی ہے

 ہاتھ خالی سرِ بازار لیے پھرتی ہے

روح میں سینکڑوں آزار لیے پھرتی ہے

بے خبر ہے کہ نہیں ہاتھ میں پھوٹی کوڑی

ماں جسے گود میں بیمار لیے پھرتی ہے

ایک دوشیزہ نمائش کا سہارہ لے کر

کتنے بے شکل خریدار لیے پھرتی ہے

Saturday, 11 December 2021

آؤ جو ٹوٹے ہوئے خواب ہیں تقسیم کریں

 آؤ جو ٹوٹے ہوئے خواب ہیں تقسیم کریں

جس کی قسمت میں جو گرداب ہیں تقسیم کریں

تم مِرے نام پہ جی لینا میں تم پر مر کر

جینے مرنے کے جو آداب ہیں تقسیم کریں

خشک آنکھوں میں جو مرجھا گئے ان کی کلیاں

آس کے پھول جو شاداب ہیں تقسیم کریں

Friday, 10 December 2021

حق جو مانگا تو مرے ہاتھ میں کشکول دیا

 حق جو مانگا تو مِرے ہاتھ میں کشکول دیا

آج اس نے مرے احساس کا در کھول دیا

میرے ہونٹوں کو سخاوت کے قصیدے دے کر

ہر گلی جا کے بجانے کو مجھے ڈھول دیا

چُن کے ہر ایک وفا اور مروت میری

مجھ کو تحقیر کی میزان میں کیوں تول دیا

Friday, 7 May 2021

جب دن میں تری یاد کے دھارے نہیں رکتے

 جب دن میں تِری یاد کے دھارے نہیں رُکتے

کیوں رات کے جانے سے ستارے نہیں رکتے

روکوں بھی تو خوابوں میں چلے آتے ہیں اکثر

جاناں! لب و رخسار تمہارے نہیں رکتے

کرنا ہے انہیں کون سی منزل کا تعاقب

یہ خواب جو آنکھوں کے کنارے نہیں رکتے