تم نے اب سیکھ لیا مجھ کو ستائے رکھنا
ایک محشر سا مِرے دل میں اٹھائے رکھنا
ایسا کرنا کہ مِرے نام کو دل پر لکھ کر
پردۂ ذہن کو توقیر دلائے رکھنا
میں بھی رکھوں گا تمہیں سوچ کے شانوں پہ سوار
تم بھی سینے سے مِری آس لگائے رکھنا
تم نے اب سیکھ لیا مجھ کو ستائے رکھنا
ایک محشر سا مِرے دل میں اٹھائے رکھنا
ایسا کرنا کہ مِرے نام کو دل پر لکھ کر
پردۂ ذہن کو توقیر دلائے رکھنا
میں بھی رکھوں گا تمہیں سوچ کے شانوں پہ سوار
تم بھی سینے سے مِری آس لگائے رکھنا
اب تو روٹھ جانے کا وقت ہی نہیں ملتا
تجھ کو آزمانے کا وقت ہی نہیں ملتا
سو چکے ہیں جو ارماں یاس کے شبستاں میں
اب انہیں جگانے کا وقت ہی نہیں ملتا
کس طرح بلائیں اب تجھ کو دید کی خاطر
راستہ سجانے کا وقت ہی نہیں ملتا
رہنماؤں کی بات کرتے ہو
پارساؤں کی بات کرتے ہو
جو اڑا لیں سروں سے آنچل بھی
ان ہواؤں کی بات کرتے ہو
جل رہی ہے زمیں کی کوکھ مگر
تم خلاؤں کی بات کرتے ہو
ہاتھ خالی سرِ بازار لیے پھرتی ہے
روح میں سینکڑوں آزار لیے پھرتی ہے
بے خبر ہے کہ نہیں ہاتھ میں پھوٹی کوڑی
ماں جسے گود میں بیمار لیے پھرتی ہے
ایک دوشیزہ نمائش کا سہارہ لے کر
کتنے بے شکل خریدار لیے پھرتی ہے
آؤ جو ٹوٹے ہوئے خواب ہیں تقسیم کریں
جس کی قسمت میں جو گرداب ہیں تقسیم کریں
تم مِرے نام پہ جی لینا میں تم پر مر کر
جینے مرنے کے جو آداب ہیں تقسیم کریں
خشک آنکھوں میں جو مرجھا گئے ان کی کلیاں
آس کے پھول جو شاداب ہیں تقسیم کریں
حق جو مانگا تو مِرے ہاتھ میں کشکول دیا
آج اس نے مرے احساس کا در کھول دیا
میرے ہونٹوں کو سخاوت کے قصیدے دے کر
ہر گلی جا کے بجانے کو مجھے ڈھول دیا
چُن کے ہر ایک وفا اور مروت میری
مجھ کو تحقیر کی میزان میں کیوں تول دیا
جب دن میں تِری یاد کے دھارے نہیں رُکتے
کیوں رات کے جانے سے ستارے نہیں رکتے
روکوں بھی تو خوابوں میں چلے آتے ہیں اکثر
جاناں! لب و رخسار تمہارے نہیں رکتے
کرنا ہے انہیں کون سی منزل کا تعاقب
یہ خواب جو آنکھوں کے کنارے نہیں رکتے