Friday, 10 December 2021

حق جو مانگا تو مرے ہاتھ میں کشکول دیا

 حق جو مانگا تو مِرے ہاتھ میں کشکول دیا

آج اس نے مرے احساس کا در کھول دیا

میرے ہونٹوں کو سخاوت کے قصیدے دے کر

ہر گلی جا کے بجانے کو مجھے ڈھول دیا

چُن کے ہر ایک وفا اور مروت میری

مجھ کو تحقیر کی میزان میں کیوں تول دیا

میرے لقمے پہ نظر ایسے پڑی تھی اس کی

زہر سا اک مِرے احساس میں بس گھول دیا

اس گھڑی اس نے مِری ذات سے مانگی ہے نجات

میری ہستی کی ہر اک شان کو جب رول دیا

ایک لمحے میں بدل ڈالی ہے دل کی دنیا

جانے کیا اس کی نگاہوں نے مجھے بول دیا

جسم میں روح کی مانند سما کر اس نے

عہدِ ہجراں کا مجھے تحفۂ انمول دیا


نقاش عابدی

No comments:

Post a Comment