Friday, 10 December 2021

خوشی کی ساعتیں غم کی فضا نہ راس آئی

 خوشی کی ساعتیں غم کی فضا نہ راس آئی

کہ زندگی کو کوئی بھی ادا نہ راس آئی

جسے تلاش کیا خود کو بھول کر ہم نے

اسی جزیرے کی آب و ہوا نہ راس آئی

پرائے گھر کے مکینوں سے کیا گِلہ شکوہ

ہمیں تو اپنے ہی گھر کی فضا نہ راس آئی

وہی ہوا کہ تِرا ہاتھ تجھ سے مانگ لیا

محبتوں کے سفر میں انا نہ راس آئی

کئی چراغ ہیں روشن فصیلِ شب پہ مگر

کئی چراغوں کو تازہ ہوا نہ راس آئی

برہنہ کرنے لگی انقلاب کی آندھی

قبائے جاہ و حشم بھی ذرا نہ راس آئی

ہجومِ شہر میں ہر آدمی اکیلا ہے

یہاں کسی کو کسی کی وفا نہ راس آئی

وہ قبر جیسے مکانوں میں کیسے زندہ ہیں

جنہیں کشادہ گھروں کی فضا نہ راس آئی


ریاض حنفی

No comments:

Post a Comment