Showing posts with label تہذیب حافی. Show all posts
Showing posts with label تہذیب حافی. Show all posts

Friday, 20 October 2023

اشک ضائع ہو رہے تھے دیکھ کر روتا نہ تھا

 اشک ضائع ہو رہے تھے، دیکھ کر روتا نہ تھا

جس جگہ بنتا تھا رونا، میں اُدھر روتا نہ تھا

صرف تیری چُپ نے میرے گال گیلے کر دئیے

میں تو وہ ہوں جو کسی کی موت پر روتا نہ تھا

مجھ پہ کتنے سانحے گزرے پر اُن آنکھوں کو کیا

میرا دُکھ یہ ہے کہ میرا ہمسفر روتا نہ تھا

Friday, 22 September 2023

کیا خبر اس روشنی میں اور کیا روشن ہوا

 کیا خبر اس روشنی میں اور کیا روشن ہوا

جب وہ ان ہاتھوں سے پہلی مرتبہ روشن ہوا

وہ مِرے سینے سے لگ کر جس کو روئی کون تھا

کس کے بُجھنے پر میں آج اس کی جگہ روشن ہوا

ویسے میں ان راستوں اور طاقچوں کا تھا نہیں

پھر بھی تُو نے جس جگہ پر رکھ دیا روشن ہوا

Friday, 24 February 2023

طلسم یار یہ پہلو نکال لیتا ہے

 طلسمِ یار یہ پہلو نکال لیتا ہے

کہ پتھروں سے بھی خوشبو نکال لیتا ہے

ہے بے لحاظ کچھ ایسا کہ آنکھ لگتے ہی

وہ سر کے نیچے سے بازو نکال لیتا ہے

کوئی گلی تیرے مفرورِ دو جہاں کی طرف

نہیں نکلتی مگر تُو نکال لیتا ہے

Sunday, 12 February 2023

محبت خود اپنے لیے جسم چنتی ہے

 محبت


محبت خود اپنے لیے جسم چنتی ہے

اور جال بنتی ہے ان کے لیے 

جو یہ آگ اپنے سینوں میں بھرنے کو تیار ہیں

گھٹ کے جینے سے بیزار ہوں 

محبت کبھی ایک سے 

Wednesday, 11 January 2023

ہمیں ایک دعا تھامنے آئے گی

 تیرے ساتھ گزرے دنوں کی کوئی ایک دھندلی سی تصویر 

جب بھی کبھی سامنے آئے گی

تو ہمیں ایک دعا تھامنے آئے گی

بڑھاپے کی گہرائیوں میں اترتے ہوئے

تیری بے لوث بانہوں کے گھیرے نہیں بھول پائیں گے ہم

ہم کو تیرے توسط سے ہنستے ہوئے جو ملے تھے

Friday, 9 December 2022

ہم ملیں گے کہیں اجنبی شہر کی شاہراؤں پہ

 ہم ملیں گے کہیں

اجنبی شہر کی خواب ہوتی ہوئی شاہراؤں پہ

اور شاہراؤں پہ پھیلی ہوئی دھوپ میں

ایک دن ہم کہیں ساتھ ہوں گے

وقت کی آندھیوں سے اٹی ساعتوں پر سے مٹی ہٹاتے ہوئے

ایک ہی جیسے آنسو بہاتے ہوئے

Friday, 2 December 2022

جب سے اس نے کھینچا ہے کھڑکی کا پردہ ایک طرف

 جب سے اس نے کھینچا ہے کھڑکی کا پردہ ایک طرف

اس کا کمرہ ایک طرف ہے باقی دنیا ایک طرف

میں نے اب تک جتنے بھی لوگوں میں خود کو بانٹا ہے

بچپن سے ہی رکھتا آیا ہوں تیرا حصہ ایک طرف

ایک طرف مجھے جلدی ہے اس کے دل میں گھر کرنے کی

ایک طرف وہ کر دیتا ہے رفتہ رفتہ ایک طرف

Monday, 28 November 2022

مسلسل وار کرنے پر بھی ذرہ بھر نہیں ٹوٹا

 مسلسل وار کرنے پر بھی ذرہ بھر نہیں ٹوٹا 

میں پتھر ہو گیا لیکن تِرا خنجر نہیں ٹوٹا 

تِرے ٹکرے مِری کھڑکی کے شیشوں سے زیادہ ہیں 

نصیب اچھا ہے میرا تو مِرے اندر نہیں ٹوٹا 

مجھے برباد کرنے تک ہی اس کے آستاں ٹوٹے 

مرا دل ٹوٹنے کے بعد اُس کا گھر نہیں ٹوٹا 

طلسمِ یار میں جب بھی کمی آئی، نمی آئی 

Thursday, 14 July 2022

مجھے یہ بتا میں ترا کون ہوں

 مجھ پہ تیری تمنّا کا الزام ثابت نہ ہوتا 

تو سب ٹھیک تھا

زمانہ تِری روشنی کے تسلسل کی قسمیں اٹھاتا ہے

اور میں تِرے ساتھ رہ کے بھی 

تاریکیوں کے تناظر میں مارا گیا

مجھ پہ نظرِ کرم کر مخاطب ہو مجھ سے

Wednesday, 13 April 2022

صحرا سے آنے والی ہواؤں میں ریت ہے

 صحرا سے آنے والی ہواؤں میں ریت ہے

ہجرت کروں گا گاؤں سے گاؤں میں ریت ہے

اے قیس! تیرے دشت کو اتنی دعائیں دیں

کچھ بھی نہیں ہے میری دعاؤں میں ریت ہے

صحرا سے ہو کے باغ میں آیا ہوں سیر کو

ہاتھوں میں پھول ہیں مِرے پاؤں میں ریت ہے

Sunday, 27 March 2022

تاریکیوں کو آگ لگے اور دیا جلے

 تاریکیوں کو آگ لگے اور دِیا جلے 

یہ رات بین کرتی رہے اور دیا جلے 

اس کی زباں میں اتنا اثر ہے کہ نصف شب 

وہ روشنی کی بات کرے اور دیا جلے 

تم چاہتے ہو تم سے بچھڑ کے بھی خوش رہوں 

یعنی ہوا بھی چلتی رہے اور دیا جلے

Sunday, 6 February 2022

نہ نیند اور نہ خوابوں سے آنکھ بھرنی ہے

 نہ نیند اور نہ خوابوں سے آنکھ بھرنی ہے

کہ اس سے ہم نے تجھے دیکھنے کی کرنی ہے

کسی درخت کی حدت میں دن گزارنا ہے

کسی چراغ کی چھاؤں میں رات کرنی ہے

وہ پھول اور کسی شاخ پر نہیں کھلنا

وہ زلف صرف میرے ہاتھ سے سنورنی ہے

Saturday, 5 February 2022

پائل کبھی پہنے کبھی کنگن اسے کہنا

 پائل کبھی پہنے، کبھی کنگن اُسے کہنا

لے آئے محبت میں نیا پن اسے کہنا

میکش کبھی آنکھوں کے بھروسے نہیں رہتے

شبنم کبھی بھرتی نہیں برتن اسے کہنا

اک پل سے زیادہ نہیں دنیا کی مسہری

اک شب سے زیادہ نہیں دلہن اسے کہنا

Wednesday, 2 February 2022

شور کروں گا اور نہ کچھ بھی بولوں گا

 شور کروں گا اور نہ کچھ بھی بولوں گا 

خاموشی سے اپنا رونا رو لوں گا 

ساری عمر اسی خواہش میں گزری ہے 

دستک ہو گی اور دروازہ کھولوں گا 

تنہائی میں خود سے باتیں کرنی ہیں 

میرے منہ میں جو آئے گا بولوں گا

Thursday, 4 November 2021

مہینوں بعد دفتر آ رہے ہیں

 مہینوں بعد دفتر آ رہے ہیں

ہم اک صدمے سے باہر آ رہے ہیں

تِری بانہوں سے دل اُکتا گیا ہے

اب اس جُھولے میں چکر آ رہے ہیں

سمندر کر چکا تسلیم ہم کو

خزانے خود ہی اوپر آ رہے ہیں

Monday, 9 August 2021

رات کو دیپ کی لو کم نہیں رکھی جاتی

 رات کو دیپ کی لو کم نہیں رکھی جاتی

دُھند میں روشنی مدھم نہیں رکھی جاتی

کیسے دریا کی حفاظت تِرے ذمے ٹھہراؤں

تجھ سے اک آنکھ اگر نم نہیں رکھی جاتی

اس لیے چھوڑ کے جانے لگے سب چارہ گراں

زخم سے عزتِ مرہم نہیں رکھی جاتی

Wednesday, 23 June 2021

حسن پہ جتنی دیر کہو گے بولوں گا

 حُسن پہ جتنی دیر کہو گے بولوں گا

جب میں ان آنکھوں سے فارغ ہو لوں گا

ساری عمر اسی خواہش میں گزری ہے

دستک ہو گی اور دروازہ کهولوں گا

تنہائی میں خود سے باتیں کرنی ہیں

میرے منہ میں جو آئے گا بولوں گا

Tuesday, 25 May 2021

قدم رکھتا ہے جب رستوں پہ یار آ ہستہ آہستہ

 قدم رکھتا ہے جب رستوں پہ یار آ ہستہ آہستہ

تو چھٹ جاتا ہے سب گرد و غبار آ ہستہ آہستہ

بھری آنکھوں سے ہو کے دل میں جانا سہل تھوڑی ہے

چڑھے دریاؤں کو کرتے ہیں پار آہستہ آہستہ

نظر آتا ہے تو یوں دیکھتا جاتا ہوں میں اس کو

کہ چل پڑتا ہے جیسے کاروبار آہستہ آہستہ

Saturday, 8 May 2021

تیرے ہونٹوں پہ مکڑی کے جالوں کے جمنے کا دکھ

 تیرے ہونٹوں پہ مکڑی کے جالوں کے جمنے کا دُکھ تو

بہرحال مجھ کو ہمیشہ رہے گا

تُو نے چُپ ہی اگر سادھنی تھی

تو اِظہار ہی کیوں کیا تھا؟

یہ تو ایسے ہے بچپن میں جیسے کہیں کھیلتے کھیلتے

کوئی کسی کو "سٹیچو" کہے

Saturday, 1 May 2021

تیرے پورے بدن پر اک مقدس آگ کا پہرہ ہے

 تیرے پورے بدن پر

اک مقدس آگ کا پہرہ ہے

جو تیری طرف بڑھتے ہوئے

ہاتھوں کے ناخن روک لیتا ہے

تیرے ہونٹوں سے نکلے سانس کی خوشبو

در و دیوار سے رستہ بنا کر