Sunday, 6 February 2022

نہ نیند اور نہ خوابوں سے آنکھ بھرنی ہے

 نہ نیند اور نہ خوابوں سے آنکھ بھرنی ہے

کہ اس سے ہم نے تجھے دیکھنے کی کرنی ہے

کسی درخت کی حدت میں دن گزارنا ہے

کسی چراغ کی چھاؤں میں رات کرنی ہے

وہ پھول اور کسی شاخ پر نہیں کھلنا

وہ زلف صرف میرے ہاتھ سے سنورنی ہے

تمام نا خدا ساحل سے دو ر جائیں ہمیں

سمندروں سے اکیلے میں بات کرنی ہے

ہمارے گاؤں کا ہر پھول مرنے والا ہے

اب اس گلی سے وہ خوشبو نہیں گزرنی ہے

تیرے زیاں پہ میں اپنا زیا ں نہ کر بیٹھوں

کہ مجھ مرید کا مرشد اویس قرنی ہے


تہذیب حافی

No comments:

Post a Comment