نہ نیند اور نہ خوابوں سے آنکھ بھرنی ہے
کہ اس سے ہم نے تجھے دیکھنے کی کرنی ہے
کسی درخت کی حدت میں دن گزارنا ہے
کسی چراغ کی چھاؤں میں رات کرنی ہے
وہ پھول اور کسی شاخ پر نہیں کھلنا
وہ زلف صرف میرے ہاتھ سے سنورنی ہے
تمام نا خدا ساحل سے دو ر جائیں ہمیں
سمندروں سے اکیلے میں بات کرنی ہے
ہمارے گاؤں کا ہر پھول مرنے والا ہے
اب اس گلی سے وہ خوشبو نہیں گزرنی ہے
تیرے زیاں پہ میں اپنا زیا ں نہ کر بیٹھوں
کہ مجھ مرید کا مرشد اویس قرنی ہے
تہذیب حافی
No comments:
Post a Comment