Sunday, 6 February 2022

کچھ نے آنکھیں کچھ نے چہرہ دیکھا ہے

کچھ نے آنکھیں کچھ نے چہرہ دیکھا ہے

سب نے تجھ کو تھوڑا تھوڑا دیکھا ہے

تم پر پیاس کے معنی کھلنے والے نہیں

تم نے پانی پی کر دریا دیکھا ہے

جن ہاتھوں کو چومنے آ جاتے تھے لوگ

آج انہیں ہاتھوں میں کاسہ دیکھا ہے

روتی آنکھیں یہ سن کر خاموش ہوئیں

ملبے میں اک شخص کو زندہ دیکھا ہے

بابا بولا میری قسمت اچھی ہے

اس نے شاید ہاتھ تمہارا دیکھا ہے

لگتا ہے میں پیاس سے مرنے والا ہوں

میں نے کل شب خواب میں صحرا دیکھا ہے

اندھی دنیا کو میں کیسے سمجھاؤں

ان آنکھوں سے میں نے کیا کیا دیکھا ہے

قیدی رات کو بھاگنے والا ہے تابش

اس نے خواب میں خفیہ رستہ دیکھا ہے


توصیف تابش

No comments:

Post a Comment