Showing posts with label گلزار وفا. Show all posts
Showing posts with label گلزار وفا. Show all posts

Thursday, 30 July 2026

کون سی منزل ہے جو بے خواب آنکھوں میں نہیں

 کون سی منزل ہے جو بے خواب آنکھوں میں نہیں

ایک سورج ڈھونڈتا ہوں جو کہ سپنوں میں نہیں

دیکھتا رہتا ہوں مٹتے شہر کے نقش و نگار

آنکھ میں وہ صورتیں بھی ہیں کہ گلیوں میں نہیں

موسموں کا رخ ادھر کو ہے ہواؤں کا اِدھر

جنگلوں میں بات کوئی ہے کہ شہروں میں نہیں

Friday, 25 April 2025

دھول نہ بننا آئینوں پر بار نہ ہونا

 دھول نہ بننا آئینوں پر بار نہ ہونا

بینائی کے رستے کی دیوار نہ ہونا

شہروں کا ورثہ ہیں جلتے بجھتے منظر

رہنا لیکن ہمرنگ بازار نہ ہونا

زہر ہوائیں پروا رنگوں میں چلتی ہیں

سادہ کلیو ان کے لیے گلنار نہ ہونا

Wednesday, 25 December 2024

ایک میں ہوں اور لاکھ مسائل خدا گواہ

 ایک میں ہوں اور لاکھ مسائل خُدا گواہ

دستِ طلب ہے کاسۂ سائل خدا گواہ

آنکھیں کھُلیں تو اور ہی منظر تھا روبرو

خود میں تھا اپنی راہ میں حائل خدا گواہ

یہ کائنات رقص میں ہے اک مِرے لیے

پہنے ہوئے نجوم کی پائل خدا گواہ

Thursday, 19 December 2024

پرانے پیڑ کو موسم نئی قبائیں دے

 پُرانے پیڑ کو موسم نئی قبائیں دے

گُلوں میں دفن کرے ریشمی ردائیں دے

شبِ وصال بھی منزل ہے میرے ذوقِ سفر

مجھے وصال سے آگے کی انتہائیں دے

میں ایک دانۂ پامال تھا، مگر اے خاک

اب اُگ رہا ہوں مِرے تن کو بھی قبائیں دے

Tuesday, 17 December 2024

بوسیدہ عمارات کو مسمار کیا ہے

 بوسیدہ عمارات کو مسمار کیا ہے

ہم لوگوں نے ہر راہ کو ہموار کیا ہے

یوں مرکزی کردار میں ہم ڈوبے ہیں جیسے

خود ہم نے ڈرامے کا یہ کردار کیا ہے

دیوار کی ہر خشت پہ لکھے ہیں مطالب

یوں شہر کو آئینۂ اظہار کیا ہے