کون سی منزل ہے جو بے خواب آنکھوں میں نہیں
ایک سورج ڈھونڈتا ہوں جو کہ سپنوں میں نہیں
دیکھتا رہتا ہوں مٹتے شہر کے نقش و نگار
آنکھ میں وہ صورتیں بھی ہیں کہ گلیوں میں نہیں
موسموں کا رخ ادھر کو ہے ہواؤں کا اِدھر
جنگلوں میں بات کوئی ہے کہ شہروں میں نہیں
کون سی منزل ہے جو بے خواب آنکھوں میں نہیں
ایک سورج ڈھونڈتا ہوں جو کہ سپنوں میں نہیں
دیکھتا رہتا ہوں مٹتے شہر کے نقش و نگار
آنکھ میں وہ صورتیں بھی ہیں کہ گلیوں میں نہیں
موسموں کا رخ ادھر کو ہے ہواؤں کا اِدھر
جنگلوں میں بات کوئی ہے کہ شہروں میں نہیں
دھول نہ بننا آئینوں پر بار نہ ہونا
بینائی کے رستے کی دیوار نہ ہونا
شہروں کا ورثہ ہیں جلتے بجھتے منظر
رہنا لیکن ہمرنگ بازار نہ ہونا
زہر ہوائیں پروا رنگوں میں چلتی ہیں
سادہ کلیو ان کے لیے گلنار نہ ہونا
ایک میں ہوں اور لاکھ مسائل خُدا گواہ
دستِ طلب ہے کاسۂ سائل خدا گواہ
آنکھیں کھُلیں تو اور ہی منظر تھا روبرو
خود میں تھا اپنی راہ میں حائل خدا گواہ
یہ کائنات رقص میں ہے اک مِرے لیے
پہنے ہوئے نجوم کی پائل خدا گواہ
پُرانے پیڑ کو موسم نئی قبائیں دے
گُلوں میں دفن کرے ریشمی ردائیں دے
شبِ وصال بھی منزل ہے میرے ذوقِ سفر
مجھے وصال سے آگے کی انتہائیں دے
میں ایک دانۂ پامال تھا، مگر اے خاک
اب اُگ رہا ہوں مِرے تن کو بھی قبائیں دے
بوسیدہ عمارات کو مسمار کیا ہے
ہم لوگوں نے ہر راہ کو ہموار کیا ہے
یوں مرکزی کردار میں ہم ڈوبے ہیں جیسے
خود ہم نے ڈرامے کا یہ کردار کیا ہے
دیوار کی ہر خشت پہ لکھے ہیں مطالب
یوں شہر کو آئینۂ اظہار کیا ہے