شبدھ کو شعر اور
شعر کو پیڑ کی چھایا کرتے
اپنے جگر کا لہو پلاتے
کوکھ میں رکھ کر
جیسے ماں تخلیق کا درد سہا کرتی ہے
شاعر بھی ایسا کرتے ہیں
لفظوں کو سینچا کرتے ہیں
ننھے ننھے قدم اٹھاتے
دیکھ کے ان کو
خوش ہوتے ہیں
رو پڑتے ہیں
اور جب شعر قلانچیں بھرتے
عین جوانی کو پہنچیں تب
منظر اندھے کر جاتے ہیں
آخر شاعر مر جاتے ہیں
مہرو ندا احمد
No comments:
Post a Comment