Monday, 19 October 2026

شبدھ کو شعر اور شعر کو پیڑ کی چھایا کرتے

 شبدھ کو شعر اور

شعر کو پیڑ کی چھایا کرتے

اپنے جگر کا لہو پلاتے

کوکھ میں رکھ کر

جیسے ماں تخلیق کا درد سہا کرتی ہے

شاعر بھی ایسا کرتے ہیں

لفظوں کو سینچا کرتے ہیں

ننھے ننھے قدم اٹھاتے

دیکھ کے ان کو

خوش ہوتے ہیں

رو پڑتے ہیں

اور جب شعر قلانچیں بھرتے

عین جوانی کو پہنچیں تب

منظر اندھے کر جاتے ہیں

آخر شاعر مر جاتے ہیں


مہرو ندا احمد

No comments:

Post a Comment