Showing posts with label اشرف فغاں. Show all posts
Showing posts with label اشرف فغاں. Show all posts

Thursday, 12 November 2020

یہ دل تو کسی طرح سے اے یار نہ ٹوٹے

 اس جور و جفا سے ترے زنہار نہ ٹوٹے

یہ دل تو کسی طرح سے اے یار نہ ٹوٹے

غیروں کو نہ کر مجھ دل بسمل کے مقابل

چو رنگ لگاتے تری تلوار نہ ٹوٹے

وہ شیشۂ دل ہے کہ اسی سنگ جفا پر

سو بار اگر پھینکئے یک بار نہ ٹوٹے

Saturday, 2 July 2016

دیکھئے خاک میں مجنوں کی اثر ہے کہ نہیں

دیکھیے خاک میں مجنوں کی اثر ہے کہ نہیں
دشت میں ناقۂ لیلیٰ کا گزر ہے کہ نہیں
وا اگر چشم نہ ہو اس کو نہ کہنا پی اشک
یہ خدا جانے، صدف بیچ گہر ہے کہ نہیں
ایک نے مجھ کو تِرے در کے اُپر دیکھ کہا
غیر اس در کے تجھے اور بھی در ہے کہ نہیں

حیف دل میں ترے وفا نہ ہوئی

حیف دل میں تِرے وفا نہ ہوئی
کیوں تِری چشم میں حیا نہ ہوئی
یار نے نامہ بر سے خط نہ لیا
میری خاطر عزیز! کیا نہ ہوئی
رہ گیا دور تیرے کوچہ سے
خاک بھی میری پیش پا نہ ہوئی

ہرگز مرا وحشی نہ ہوا رام کسی کا

ہرگز مِرا وحشی نہ ہوا رام کسی کا
وہ صبح کو ہے یار مِرا، شام کسی کا
اس ہستئ موہوم میں ہرگز نہ کھلی چشم
معلوم کسی کو نہیں انجام کسی کا
اتنا کوئی کہہ دے کہ مِرا یار کہاں ہے
باللہ میں لینے کا نہیں نام کسی کا

اٹھ چکا دل مرا زمانے سے

اٹھ چکا دل مِرا زمانے سے
اڑ گیا مرغ آشیانے سے
دیکھ کر دل کو مڑ گئی مژگاں
تیر خالی پڑا نشانے سے
چشم کو نقشِ پا کروں کیونکر
دور ہو خاک آستانے سے

Wednesday, 1 June 2016

صنم بنا تو خدائی کا مجھ کو کیا نہ ہوا

صنم بنا تو خدائی کا مجھ کو کیا نہ ہوا
ہزار شکر کہ تُو بُت ہوا خدا نہ ہوا
کباب ہو گیا آخر کو کچھ بُرا نہ ہوا
عجب یہ دل ہے جلا تو بھی بے مزہ نہ ہوا
شگفتگی سے ہے غنچہ کے تئیں پریشانی
بھلا ہوا کبھی کافر تو مجھ سے وا نہ ہوا

خون آنکھوں سے نکلتا ہی رہا

خون آنکھوں سے نکلتا ہی رہا
کاروانِ اشک چلتا ہی رہا
اس کفِ پا پر تِرے رنگِ حنا
جن نے دیکھا ہاتھ مَلتا ہی رہا
صبح ہوتے بجھ گئے سارے چراغ
داغِ دل تا شام جلتا ہی رہا

اے تجلی کیا ہوا شیوہ تری تکرار کا

اے تجلی! کیا ہوا شیوہ تِری تکرار کا
مر گیا آخر کو یہ طالب تِرے دیدار کا
کیا بِنائے خانۂ عشاق بے بنیاد ہے
ڈھل گیا سر سے مِرے سایہ تِری دیوار کا
روز بہ ہوتا نظر آتا نہیں یہ زخمِ دل
دیکھیے کیا ہو خدا حافظ ہے اس بیمار کا

Friday, 13 May 2016

خط دیجیو چھپا کے ملے وہ اگر کہیں

خط دیجیو چھپا کے ملے وہ اگر کہیں
لینا نہ میرے نام کو اے نامہ بر! کہیں
بادِ صبا توں عقدہ کشا اس کی ہو جیو
مجھ سا گرفتہ دل اگر آوے نظر کہیں
اتنا وفور خوش نہیں آتا ہے اشک کا
عالم کو مت ڈبوئیو اے چشمِ تر! کہیں

عالم میں اگر عشق کا بازار نہ ہوتا

عالم میں اگر عشق کا بازار نہ ہوتا
کوئی کسی بندہ کا خریدار نہ ہوتا
ہستی کی خرابی نظر آتی جو عدم میں
اس خواب سے ہرگز کوئی بیدار نہ ہوتا
کہتا ہے تجھے خاک نہ دوں غیر اذیت
یہ دل میں اگر تھی تو مِرا یار نہ ہوتا

Monday, 18 April 2016

مفت سودا ہے ارے یار کہاں جاتا ہے

مفت سودا ہے ارے یار کہاں جاتا ہے
آ مِرے دل کے خریدار کہاں جاتا ہے
کجکلہ تیغ بکف چین برابر و بے باک
یا الٰہی! یہ ستم گار کہاں جاتا ہے
لیے جاتی ہے اجل جانِ فغاںؔ کو اے یار
لیجیو تیرا گرفتار کہاں جاتا ہے

مبتلائے عشق کو اے ہمدماں شادی کہاں

مبتلائے عشق کو اے ہم دماں شادی کہاں
آ گئے اب تو گرفتاری میں، آزادی کہاں
کوہ میں مسکن کبھی ہے اور کبھی صحرا کے بیچ
خانۂ الفت ہو ویراں،۔۔ ہم کو آبادی کہاں 
ایک میں تو قتل سے خوش ہوں ولیکن مجھ سوا
پیش جاوے گی مِرے قاتل یہ جلادی کہاں

اگر عاشق کوئی پیدا نہ ہوتا

اگر عاشق کوئی پیدا نہ ہوتا
تو معشوقوں کا یہ چرچا نہ ہوتا
گریباں چاک کر روتے کہاں ہم
اگر یہ دامنِ صحرا نہ ہوتا 
سدا رہتی توقع بلبلوں کو
اگر یہ غنچۂ گُل وا نہ ہوتا

کھا پیچ و تاب مجھ کو ڈسیں اب وہ کالیاں

کھا پیچ و تاب مجھ کو ڈسیں اب وہ کالیاں
ظالم اسی لیے تیں نے زلفیں تھیں پالیاں
تنہا نہ در کو دیکھ کے گرتے ہیں اشکِ چشم
سوراخ دل میں کرتی ہیں کانوں کی بالیاں
دیکھا کہ یہ تو چھوڑنا ممکن نہیں مجھے
چلنے لگا وہ شوخ مِرا تب یہ چالیاں