Showing posts with label مغیث فریدی. Show all posts
Showing posts with label مغیث فریدی. Show all posts

Sunday, 13 March 2022

ہوا سے بادہ نچوڑیں کلی کو جام کریں

 ہوا سے بادہ نچوڑیں کلی کو جام کریں

سکوت رنگ چمن سے ذرا کلام کریں

ہمیں تو کوئی بھی پہچانتا نہیں ہے یہاں

نگاہ کس سے ملائیں کسے سلام کریں

زمانہ اس پہ تلا ہے خرد کی بات رہے

ہمیں یہ ضد ہے کہ اونچا جنوں کا نام کریں

Wednesday, 26 January 2022

ملتی ہے نظر ان سے تو کھو جاتے ہیں ہم اور

 ملتی ہے نظر ان سے تو کھو جاتے ہیں ہم اور

منزل کے قریب آ کے بہکتے ہیں قدم اور

مارے ہوئے ہیں کشمکش وہم و یقیں کے

ٹوٹے ہوئے ہر بت سے تراشے ہیں صنم اور

یہ بات سمجھتے ہی نہیں حضرت ناصح

سلتا ہے اگر چاک تو کھلتا ہے بھرم اور

Friday, 24 December 2021

دل میں جنہیں اتارتے دل سے وہی اتر گئے

 دل میں جنہیں اتارتے دل سے وہی اتر گئے

جسم کو چومتے رہے روح پہ وار کر گئے

پھر سرِ شاخ آرزو کھل کے مہک اٹھی کلی

درد کی فصل ہو چکی، داغ کے دن گزر گئے

سارے ملامتوں کے تیر جن کا ہدف بنے تھے ہم

اپنے لیے وہ تیر بھی کام دعا کا کر گئے

Thursday, 23 December 2021

انداز سخن مصلحت آمیز بہت ہے

 انداز سخن مصلحت آمیز بہت ہے

پھر بھی یہ ادا تیری دلآویز بہت ہے

آشفتہ مزاجی پہ مِری طنز نہ کیجے

اندازِ جہاں بھی تو جنوں خیز بہت ہے

ہم سے وہ ملا ہے تو کھلے دل سے ملا ہے

دنیا کو شکایت ہے،۔ کم آمیز بہت ہے

Tuesday, 15 December 2020

مفت ہے خون جگر عظمت کردار کے ساتھ

 مفت ہے خون جگر عظمت کردار کے ساتھ

اشک ملتے ہیں یہاں دیدۂ بیدار کے ساتھ

ہم نے مانگا تھا سہارا تو ملی اس کی سزا

گھٹتے بڑھتے رہے ہم سایۂ دیوار کے ساتھ

آج تو حضرت ناصح بھی لپٹ کر مجھ سے

رقص کرتے رہے زنجیر کی جھنکار کے ساتھ