ہوا سے بادہ نچوڑیں کلی کو جام کریں
سکوت رنگ چمن سے ذرا کلام کریں
ہمیں تو کوئی بھی پہچانتا نہیں ہے یہاں
نگاہ کس سے ملائیں کسے سلام کریں
زمانہ اس پہ تلا ہے خرد کی بات رہے
ہمیں یہ ضد ہے کہ اونچا جنوں کا نام کریں
ہوا سے بادہ نچوڑیں کلی کو جام کریں
سکوت رنگ چمن سے ذرا کلام کریں
ہمیں تو کوئی بھی پہچانتا نہیں ہے یہاں
نگاہ کس سے ملائیں کسے سلام کریں
زمانہ اس پہ تلا ہے خرد کی بات رہے
ہمیں یہ ضد ہے کہ اونچا جنوں کا نام کریں
ملتی ہے نظر ان سے تو کھو جاتے ہیں ہم اور
منزل کے قریب آ کے بہکتے ہیں قدم اور
مارے ہوئے ہیں کشمکش وہم و یقیں کے
ٹوٹے ہوئے ہر بت سے تراشے ہیں صنم اور
یہ بات سمجھتے ہی نہیں حضرت ناصح
سلتا ہے اگر چاک تو کھلتا ہے بھرم اور
دل میں جنہیں اتارتے دل سے وہی اتر گئے
جسم کو چومتے رہے روح پہ وار کر گئے
پھر سرِ شاخ آرزو کھل کے مہک اٹھی کلی
درد کی فصل ہو چکی، داغ کے دن گزر گئے
سارے ملامتوں کے تیر جن کا ہدف بنے تھے ہم
اپنے لیے وہ تیر بھی کام دعا کا کر گئے
انداز سخن مصلحت آمیز بہت ہے
پھر بھی یہ ادا تیری دلآویز بہت ہے
آشفتہ مزاجی پہ مِری طنز نہ کیجے
اندازِ جہاں بھی تو جنوں خیز بہت ہے
ہم سے وہ ملا ہے تو کھلے دل سے ملا ہے
دنیا کو شکایت ہے،۔ کم آمیز بہت ہے
مفت ہے خون جگر عظمت کردار کے ساتھ
اشک ملتے ہیں یہاں دیدۂ بیدار کے ساتھ
ہم نے مانگا تھا سہارا تو ملی اس کی سزا
گھٹتے بڑھتے رہے ہم سایۂ دیوار کے ساتھ
آج تو حضرت ناصح بھی لپٹ کر مجھ سے
رقص کرتے رہے زنجیر کی جھنکار کے ساتھ