Tuesday, 15 December 2020

مفت ہے خون جگر عظمت کردار کے ساتھ

 مفت ہے خون جگر عظمت کردار کے ساتھ

اشک ملتے ہیں یہاں دیدۂ بیدار کے ساتھ

ہم نے مانگا تھا سہارا تو ملی اس کی سزا

گھٹتے بڑھتے رہے ہم سایۂ دیوار کے ساتھ

آج تو حضرت ناصح بھی لپٹ کر مجھ سے

رقص کرتے رہے زنجیر کی جھنکار کے ساتھ

دل برباد پہ ہے سایہ فگن یاد تری💔

سایۂ فضل خدا جیسے گنہ گار کے ساتھ

دل میں اس شہر کے کچھ عکس ابھی باقی ہیں

لٹ گئے ہم بھی جہاں گرمئ بازار کے ساتھ

ایسی بستی سے تو وہ دشت کہیں بہتر تھا

آبلے مل کے جہاں روتے تھے ہر خار کے ساتھ

اب تو اک خواب سی لگتی ہے حقیقت یہ بھی

ربط تھا ہم کو کسی یار طرح دار کے ساتھ

دل میں میرے بھی یقیں اور گماں ساتھ رہے

جیسے انکار ترے لب پہ ہے اقرار کے ساتھ

ایسے انمول نہ تھے ہم کہ نہ بکتے، لیکن

دو قدم چل نہ سکے اپنے خریدار کے ساتھ

حاصل فن ہیں فریدی وہی اشعار غزل

خون دل جن میں ہو رنگینئ افکار کے ساتھ


مغیث الدین فریدی

No comments:

Post a Comment