باعث اجر پسِ روز جزا ہے بھی نہیں
ہو بھی سکتا ہے خدا اور خدا ہے بھی نہیں
میں میسّر تھا اسے، اور میسّر کے لیے
اس زمانے میں کوئی خاص جگہ ہے بھی نہیں
ایک تو سانس میں اٹکا ہے کوئی سنگِ سیاہ
دوسرا سطحِ سمندر پہ ہوا ہے بھی نہیں
اتنے پیوند ہیں اسرارِ فقیری پہ کہ اب
صاحبِ فقر کو احساسِ قبا ہے بھی نہیں
نُدرتِ خواب ہے آواز کے سائے میں کہیں
اور اس خوابِ قدیمی کو پتا ہے بھی نہیں
عماد اظہر
No comments:
Post a Comment