شب بخیر
وہ جن کا اجر بھی شاید
صعوبت در صعوبت ہے
میں ان دُشوار لمحوں کی
اُداسی کا اثاثہ ہوں
سونیا کانجو
شب بخیر
وہ جن کا اجر بھی شاید
صعوبت در صعوبت ہے
میں ان دُشوار لمحوں کی
اُداسی کا اثاثہ ہوں
سونیا کانجو
میرے بے خبر
کبھی لے خبر
کہ اس جہاں کے سراب نے
کبھی گردشوں کے عذاب نے
میرے اپنے حالِ خراب نے
مجھے کیسے کیسے تھکا دیا
انالسٹ analyst
اگر میں ایک اچھی انالسٹ ہوتی
تو رگیں نچوڑ کے
اس میں بہنے والی اذیت کی مقدار ماپتی
اور جانچتی کہ
دکھ کا کتنا زہر اور ملانے سے
سانس کا رنگ نیلا پڑے گا
قرار جاں
تمہارا لمس اس بے جان ہوتے وجود میں
جان ڈالنے کا واحد ذریعہ ہے
میری آنکھوں کی عمر اتنی کافی ہے
جب تک تمہیں دیکھنے کی سہولت رہے
اس دنیا کے سراب سے اس طرف
بابا
غموں کی آگ جلائی تھی اپنے ہاتھوں سے
سو کیسے بُجھتی یہ مُخلصی کی باتوں سے
نصیب میرا تھا تاعمر نا رسا رہنا
کہ ممکن ہی نہ تھا دل میرا بسا رہنا
جہاں پہ خیمہ لگایا وفا محبت کا
گماں نہ تھا مکینوں کی اس کدورت کا
میرے ہمنشیں
کوئی ایک دن
کوئی ایک شام
ہمیں دُکھ ملے ہیں جو ان کے نام
سونیا کانجو
دکھ کا باعث ہونا دکھ ہے
خود پر رو کے سونا دکھ ہے
جس تک رونے کو جاتے ہیں
گھر کا وہ اک کونا دکھ ہے
اس کو پانا دکھ تھا پھر بھی
پا کے اس کو کھونا دکھ ہے