Showing posts with label سونیا کانجو. Show all posts
Showing posts with label سونیا کانجو. Show all posts

Sunday, 19 March 2023

اداسی کا اثاثہ ہوں

 شب بخیر


وہ جن کا اجر بھی شاید

صعوبت در صعوبت ہے

میں ان دُشوار لمحوں کی

اُداسی کا اثاثہ ہوں


سونیا کانجو

Friday, 28 October 2022

میرے بے خبر کبھی لے خبر

 میرے بے خبر

کبھی لے خبر

کہ اس جہاں کے سراب نے

کبھی گردشوں کے عذاب نے

میرے اپنے حالِ خراب نے

مجھے کیسے کیسے تھکا دیا

Saturday, 17 September 2022

انالسٹ analyst

  انالسٹ analyst


اگر میں ایک اچھی انالسٹ ہوتی

تو رگیں نچوڑ کے

اس میں بہنے والی اذیت کی مقدار ماپتی

اور جانچتی کہ

دکھ کا کتنا زہر اور ملانے سے

سانس کا رنگ نیلا پڑے گا

Saturday, 10 September 2022

تمہارا لمس اس بے جان ہوتے وجود میں

 قرار جاں

تمہارا لمس اس بے جان ہوتے وجود میں 

جان ڈالنے کا واحد ذریعہ ہے

میری آنکھوں کی عمر اتنی کافی ہے 

جب تک تمہیں دیکھنے کی سہولت رہے

اس دنیا کے سراب سے اس طرف

Tuesday, 6 September 2022

غموں کی آگ جلائی تھی اپنے ہاتھوں سے

  بابا

غموں کی آگ جلائی تھی اپنے ہاتھوں سے

سو کیسے بُجھتی یہ مُخلصی کی باتوں سے

نصیب میرا تھا تاعمر نا رسا رہنا

کہ ممکن ہی نہ تھا دل میرا بسا رہنا

جہاں پہ خیمہ لگایا وفا محبت کا

گماں نہ تھا مکینوں کی اس کدورت کا

Sunday, 10 July 2022

میرے ہمنشیں کوئی ایک دن کوئی ایک شام

 میرے ہمنشیں

کوئی ایک دن

کوئی ایک شام

ہمیں دُکھ ملے ہیں جو ان کے نام


سونیا کانجو 

Saturday, 2 July 2022

دکھ کا باعث ہونا دکھ ہے

 دکھ کا باعث ہونا دکھ ہے

خود پر رو کے سونا دکھ ہے

جس تک رونے کو جاتے ہیں

گھر کا وہ اک کونا دکھ ہے 

اس کو پانا دکھ تھا پھر بھی

پا کے اس کو کھونا دکھ ہے