طویل رات تھی زُلفوں کا پیچ و تاب نہ تھا
تھا رتجگے کا سماں کوئی مست خواب نہ تھا
پسینہ 🎕گُل🎕 کا نکلتا تو عِطر ہو جاتا
نسیمِ صُبح تھی کچھ سوزِ آفتاب نہ تھا
درخت جھُوم رہے تھے ہوا کی مستی میں
تھا کوئی پاک نشہ،۔ نشۂ شراب نہ تھا
زبان و خامہ و قِرطاس جمع ہونے لگے
کوئی کتاب، کوئی کاتبِ کتاب نہ تھا
علیؑ کی تیغ سے پہلے نہیں تھی تیغ کوئی
علیؑ سے پہلے کوئی مرد فتح یاب نہ تھا
سلونی" کہتا رہا اور چُپ رہی دُنیا"
یہ وہ سوال تھا جس کا کوئی جواب نہ تھا
علی رضا اسیر
No comments:
Post a Comment