Friday, 23 October 2026

غزل کی آگ قلم کی گھٹن برائے فروخت

 غزل کی آگ قلم کی گُھٹن برائے فروخت

یہ کون رکھ گیا ذہنی تھکن برائے فروخت

کتابیں پھینک کے غُربت نے اپنے ہاتھوں سے

یہ لِکھ لیا ہے بدن پر؛ بدن برائے فروخت

بندھے ہوئے ہیں کسی ربط غیب سے دونوں

بدن برائے کفن ہے۔ کفن برائے فروخت

اُٹھا کے رکھ دئیے بازار کی پناہوں میں

سخن فروش نے شعر و سخن برائے فروخت

ضرورتوں نے جواں لڑکیوں کے ماتھے پر

یہ گود رکھا ہے رخت بدن برائے فروخت

یہ کس نے رکھ دئیے مجبوریوں کی منڈی میں

کہیں پہ جسم کہیں پیرہن برائے فروخت


لکی فاروقی حسرت

No comments:

Post a Comment