ہر درد وہ دیتے ہیں ہر ظلم وہ ڈھاتے ہیں
پھر بھی رخِ زیبا سے دیوانہ بناتے ہیں
صد شکر کہ زنداں میں آثارِ حیات ابھرے
کس شور سے دیوانے زنجیر ہلاتے ہیں
خنجر بھی نہیں اٹھتا یہ اور ستم دیکھو
ہم تو رہِ مقتل میں خود شوق سے جاتے ہیں
ہر درد وہ دیتے ہیں ہر ظلم وہ ڈھاتے ہیں
پھر بھی رخِ زیبا سے دیوانہ بناتے ہیں
صد شکر کہ زنداں میں آثارِ حیات ابھرے
کس شور سے دیوانے زنجیر ہلاتے ہیں
خنجر بھی نہیں اٹھتا یہ اور ستم دیکھو
ہم تو رہِ مقتل میں خود شوق سے جاتے ہیں
قاتل ہے ان میں کون، یہ کیسے لگے سراغ
دامن پہ آج کس کے نہیں ہیں لہو کے داغ
اب درد و غم کی بات نہ آئے زبان پر
اعلان ہو رہا ہے کہ ہر دل ہے باغ باغ
مدہوشیوں میں اہلِ ہوس کو خبر نہ تھی
ایک ایک کر کے بزم میں بُجھتے رہے چراغ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ایک احساس (مسجد نبوی کے زیر سایہ)
جو چاند کی طرح تھا رخ یار ہے کہاں
پھیلی تھی جس کی چاندنی، وہ پیار ہے کہاں
کر دے جو دور روح کا آزار ہے کہاں
وہ دوست اب کہاں، وہ غمخوار ہے کہاں
جلووں سے جس کے دل کو نئی زندگی ملی
اے دل! خبر تو دے مِرے دلدار ہے کہاں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دربارِ تجلّی میں
اللہ تیرا نام، غفور و رحیم تُو
مالک کل عالمین کا، رب کریم تُو
ہر ایک بیل بُوٹے پہ لکھا ہے تیرا نام
رقصاں ہے تیری ذات سے یہ زندگی کا جام
تیرے ہی رنگ و نُور سے ہے رونقِ حیات
تیری ہی دُھن پہ رقص میں ہے ساری کائنات
میری آنکھوں میں کیوں نمی سی ہے
کیا زمانے میں کچھ کمی سی ہے
شہرِ دل میں تو بس اندھیرے ہیں
لاکھ دُنیا میں روشنی سی ہے
ہم نفس سب کہاں گئے لوگو
اب یہ دُنیا تو اجنبی سی ہے
گزرے ہیں تیرے ساتھ جو دن رات ابھی تک
آنکھوں میں بسے ہیں وہی لمحات ابھی تک
کچھ عشق کی لذت بھی ہے کچھ سوزش دل بھی
تازہ ہیں مِرے دل میں یہ سوغات ابھی تک
کرتی ہوں کبھی جب تری تصویر سے باتیں
کیوں آنکھ سے ہوتی ہے یہ برسات ابھی تک