Showing posts with label صادقہ فاطمی. Show all posts
Showing posts with label صادقہ فاطمی. Show all posts

Tuesday, 16 December 2025

ہر درد وہ دیتے ہیں ہر ظلم وہ ڈھاتے ہیں

 ہر درد وہ دیتے ہیں ہر ظلم وہ ڈھاتے ہیں

پھر بھی رخِ زیبا سے دیوانہ بناتے ہیں

صد شکر کہ زنداں میں آثارِ حیات ابھرے

کس شور سے دیوانے زنجیر ہلاتے ہیں

خنجر بھی نہیں اٹھتا یہ اور ستم دیکھو

ہم تو رہِ مقتل میں خود شوق سے جاتے ہیں

Wednesday, 7 May 2025

قاتل ہے ان میں کون یہ کیسے لگے سراغ

 قاتل ہے ان میں کون، یہ کیسے لگے سراغ

دامن پہ آج کس کے نہیں ہیں لہو کے داغ

اب درد و غم کی بات نہ آئے زبان پر

اعلان ہو رہا ہے کہ ہر دل ہے باغ باغ

مدہوشیوں میں اہلِ ہوس کو خبر نہ تھی

ایک ایک کر کے بزم میں بُجھتے رہے چراغ

Friday, 28 February 2025

جو چاند کی طرح تھا رخ یار ہے کہاں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

ایک احساس (مسجد نبوی کے زیر سایہ)


جو چاند کی طرح تھا رخ یار ہے کہاں

پھیلی تھی جس کی چاندنی، وہ پیار ہے کہاں

کر دے جو دور روح کا آزار ہے کہاں

وہ دوست اب کہاں، وہ غمخوار ہے کہاں

جلووں سے جس کے دل کو نئی زندگی ملی

اے دل! خبر تو دے مِرے دلدار ہے کہاں

Wednesday, 11 December 2024

اللہ تیرا نام غفور و رحیم تو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

دربارِ تجلّی میں


اللہ تیرا نام، غفور و رحیم تُو

مالک کل عالمین کا، رب کریم تُو

ہر ایک بیل بُوٹے پہ لکھا ہے تیرا نام

رقصاں ہے تیری ذات سے یہ زندگی کا جام

تیرے ہی رنگ و نُور سے ہے رونقِ حیات

تیری ہی دُھن پہ رقص میں ہے ساری کائنات

Friday, 29 November 2024

میری آنکھوں میں کیوں نمی سی ہے

 میری آنکھوں میں کیوں نمی سی ہے

کیا زمانے میں کچھ کمی سی ہے

شہرِ دل میں تو بس اندھیرے ہیں

لاکھ دُنیا میں روشنی سی ہے

ہم نفس سب کہاں گئے لوگو

اب یہ دُنیا تو اجنبی سی ہے

Thursday, 3 June 2021

گزرے ہیں تیرے ساتھ جو دن رات ابھی تک

گزرے ہیں تیرے ساتھ جو دن رات ابھی تک

آنکھوں میں بسے ہیں وہی لمحات ابھی تک

کچھ عشق کی لذت بھی ہے کچھ سوزش دل بھی

تازہ ہیں مِرے دل میں یہ سوغات ابھی تک

کرتی ہوں کبھی جب تری تصویر سے باتیں

کیوں آنکھ سے ہوتی ہے یہ برسات ابھی تک