کہانی دل کی لکھو، قصۂ درد جگر لکھو
انا اپنی نہ ہو مجروح اتنا سوچ کر لکھو
تم اپنے سخت لفظوں سے اسے مت کرب پہنچاؤ
شکایت ہی سہی لیکن بہ الفاظِ دِگر لکھو
طوالت بوجھ بن جاتی ہے اکثر پڑھنے والوں پر
تاثر چاہتے ہو گر تو قصہ مختصر لکھو
کہانی دل کی لکھو، قصۂ درد جگر لکھو
انا اپنی نہ ہو مجروح اتنا سوچ کر لکھو
تم اپنے سخت لفظوں سے اسے مت کرب پہنچاؤ
شکایت ہی سہی لیکن بہ الفاظِ دِگر لکھو
طوالت بوجھ بن جاتی ہے اکثر پڑھنے والوں پر
تاثر چاہتے ہو گر تو قصہ مختصر لکھو
اگرچہ جان کا خطرہ نئی اڑان میں تھا
پرندہ پھر بھی بہت دور آسمانوں میں تھا
ملی جو منزل امکاں بہ جستجوئے ہزار
عجیب نشہ سفر در سفر تکان میں تھا
اسی نے گھر کے چراغوں کی لو بڑھائی ہے
شمار جس کا کبھی ننگ خاندان میں تھا
ایک مدت ہو گئی غم سے شناسائی ہوئے
ہم اسے اپنا سمجھ کر اس کے شیدائی ہوئے
جب خلوص یار میں شامل تصنع ہو گیا
ہم بھی کیا کرتے اسیر دشت تنہائی ہوئے
فاصلوں نے قربتوں پر ڈال دی ہے خاک سی
ایک عرصہ ہو گیا ہے بزم آرائی ہوئے
تمام عمر مجھے اس کی آرزو ٹھہری
وہ ایک شخص عداوت ہی جس کی خو ٹھہری
جھکی تو اٹھ نہ سکی شرم سے نگاہ طلب
یہ اور بات کہ پھر بھی وہ سرخ رو ٹھہری
مرے لبوں سے اداسی مگر نہ چھوٹ سکی
ہزار ساعت دشوار خوش گلو ٹھہری