Thursday, 5 March 2026

کہانی دل کی لکھو قصۂ درد جگر لکھو

 کہانی دل کی لکھو، قصۂ درد جگر لکھو

انا اپنی نہ ہو مجروح اتنا سوچ کر لکھو

تم اپنے سخت لفظوں سے اسے مت کرب پہنچاؤ

شکایت ہی سہی لیکن بہ الفاظِ دِگر لکھو

طوالت بوجھ بن جاتی ہے اکثر پڑھنے والوں پر

تاثر چاہتے ہو گر تو قصہ مختصر لکھو

فسانہ زندگی کا لکھ چکے، عنوان بھی رکھ لو

اندھیری، گھپ اندھیری شب میں جنگل کا سفر لکھو

تمہاری خامشی کو لوگ سمجھیں گے رضامندی

غلط کو تم غلط لکھو، مگر لکھو، مگر لکھو


نسیم مظفرپوری

نسیم اختر

No comments:

Post a Comment