وطن کو کیوں وطن سمجھوں، نہ جب لطف وطن پایا
نہ کوئی مونس و ہمدم، نہ کوئی ہم سخن پایا
تجھے دیکھا کیے اے عہد نو، پڑھ پڑھ کے تاریخیں
وہی انسان پائے اور وہی عُہد کہن کو پایا
خدا کا شکر، ان دولت بھرے اونچے مکانوں پر
ہمیشہ کلبۂ احزاں کو اپنے خندہ زن پایا
حرم تک لے کے آیا ہے خیال و خواب کی جنت
جسے ہم شیخ سمجھتے تھے، اسی کو برہمن پایا
حقیقت یہ ہے، بے لوٹے ہوئے دولت نہیں ملتی
لباس مرزا میں جس کو دیکھا راہزن پایا
جنہیں ہم سے غریبوں کی، بہی خواہی کا دعویٰ تھا
انہیں کرسی نشینوں کو بڑا پیماں شکن پایا
نہ جس کا جیتے جی، ہم اہل دنیا نے بدن ڈھانکا
اسی نے مر کے اس دنیا میں چندے سے کفن پایا
نہ آیا بے غرض ملنا، فقط مطلب کی باتیں ہیں
خلوص بے ریا تم میں، نہ ارباب وطن پایا
چھپائے سے کہاں مایوسیاں ارشاد چھپتی ہیں
بظاہر یوں تو ہر غُنچہ کو میں نے خندہ زن پایا
نقی احمد ارشاد
No comments:
Post a Comment