Thursday, 12 March 2026

کسی کے وعدۂ فردا کو آزماتی رہی

 کسی کے وعدۂ فردا کو آزماتی رہی

تمام عمر محبت کے غم چھپاتی رہی

گزشتہ زخموں کی اتنی کسک تو باقی ہے

کبھی کبھی تو تیری یاد مجھ کو آتی رہی

بڑے سکون سے اس نے گزار دی اپنی

میں زندگی سے بھی اکثر فریب کھاتی رہی

کہاں نصیب تھا اس کا شریکِ غم ہونا

مقدرات کے لکھے کو کیوں مٹاتی رہی

غزل کے شعر جو لکھے تھے ناز اس کے لیے

غزل کے شعر کسی اور کو سناتی رہی


نگار بانو ناز

No comments:

Post a Comment