کسی کے وعدۂ فردا کو آزماتی رہی
تمام عمر محبت کے غم چھپاتی رہی
گزشتہ زخموں کی اتنی کسک تو باقی ہے
کبھی کبھی تو تیری یاد مجھ کو آتی رہی
بڑے سکون سے اس نے گزار دی اپنی
میں زندگی سے بھی اکثر فریب کھاتی رہی
کہاں نصیب تھا اس کا شریکِ غم ہونا
مقدرات کے لکھے کو کیوں مٹاتی رہی
غزل کے شعر جو لکھے تھے ناز اس کے لیے
غزل کے شعر کسی اور کو سناتی رہی
نگار بانو ناز
No comments:
Post a Comment