Friday, 13 March 2026

تم نے مجھے دیمک کہا میں نے تمہارے غم چاٹ لیے

 تم نے مجھے دیمک کہا

میں نے تمہارے غم چاٹ لیے

تم نے مجھے کتیا کہا

میں تمہارے گناہوں کی محافظ ہوئی

تم نے مجھے ڈائن کہا

میں تمہارا گندہ خون چوسنے لگی

تم نے مجھے راہرو کہا

میں راستے ناپنے لگی

"تم نے کہا "تم رات ہو

میں گھڑی توڑنے لگی

تم نے کہا تم سانپ ہو

میں تمہارا زہر چوسنے لگی

تم نے مجھے عزازیل کہا

میں کھڑی پتھر کھاتی رہی

"تم نے کہا " تم زباں دراز ہو

میں یاجوج ماجوج کے ساتھ دیوار چاٹنے لگی

تم نے مجھے حرافہ کہا

میں تمہارا گھر سنبھالنے لگی

"تم نے کہا "تم عورت ہو ہی نہیں

میں تمہارا کلیجہ چبانے لگی


نمرہ وارث

No comments:

Post a Comment