تم نے مجھے دیمک کہا
میں نے تمہارے غم چاٹ لیے
تم نے مجھے کتیا کہا
میں تمہارے گناہوں کی محافظ ہوئی
تم نے مجھے ڈائن کہا
میں تمہارا گندہ خون چوسنے لگی
تم نے مجھے راہرو کہا
میں راستے ناپنے لگی
"تم نے کہا "تم رات ہو
میں گھڑی توڑنے لگی
تم نے کہا تم سانپ ہو
میں تمہارا زہر چوسنے لگی
تم نے مجھے عزازیل کہا
میں کھڑی پتھر کھاتی رہی
"تم نے کہا " تم زباں دراز ہو
میں یاجوج ماجوج کے ساتھ دیوار چاٹنے لگی
تم نے مجھے حرافہ کہا
میں تمہارا گھر سنبھالنے لگی
"تم نے کہا "تم عورت ہو ہی نہیں
میں تمہارا کلیجہ چبانے لگی
نمرہ وارث
No comments:
Post a Comment