فرزانے تجھ کو ڈھونڈ کے لاچار ہو گئے
دیوانے تیرے صاحبِ اسرار ہو گئے
یارب عطا ہو پائے طلب کو جنوں کا جوش
ہوش و حواس راہ کی دیوار ہو گئے
گھبرا کے ہم بھی تنگئ دامانِ فکر سے
عریاں کبھی کبھی سرِ بازار ہو گئے
آنکھیں اٹھیں تو راہ میں تنہا کھڑے تھے ہم
نظریں جھکیں تو آپ سے دو چار ہو گئے
ہم نے انا کہی تھی، ابھی حق تو دور تھا
ان کی نظر میں مستحقِ دار ہو گئے
کیوں اس طرح سے وقت نے بدلی ہیں کروٹیں
نباض وقت نیند سے بیدار ہو گئے
قدموں سے کر رہا تھا طوافِ حرم رضا
دل نے کہا یہ پیر گنہ گار ہو گئے
موسیٰ رضا
No comments:
Post a Comment