موت کے سامنے کھڑی ہوں میں
عمر کی آخری گھڑی ہوں میں
تختِ افلاک تک نہیں پہنچی
کیسے عالَم میں آ پڑی ہوں میں
ناچتا ہے وہ رزق سڑکوں پر
جس کی خاطر بہت لڑی ہوں میں
خود کو تسخِیر کر لیا میں نے
اب تِری ذات میں گڑی ہوں میں
ساعتِ وصل! کچھ خیال تو کر
تجھ سے تو عمر میں بڑی ہوں میں
میں تو برگد کی ٹھنڈی چھاؤں ہوں
دُھوپ کی طرح کب کڑی ہوں میں
ریحانہ کنول
No comments:
Post a Comment