Sunday, 29 March 2026

موت کے سامنے کھڑی ہوں میں

 موت کے سامنے کھڑی ہوں میں

عمر کی آخری گھڑی ہوں میں

تختِ افلاک تک نہیں پہنچی

کیسے عالَم میں آ پڑی ہوں میں

ناچتا ہے وہ رزق سڑکوں پر

جس کی خاطر بہت لڑی ہوں میں

خود کو تسخِیر کر لیا میں نے

اب تِری ذات میں گڑی ہوں میں

ساعتِ وصل! کچھ خیال تو کر

تجھ سے تو عمر میں بڑی ہوں میں

میں تو برگد کی ٹھنڈی چھاؤں ہوں

دُھوپ کی طرح کب کڑی ہوں میں


ریحانہ کنول

No comments:

Post a Comment