اے حکومت چاہیے ہم پر بھی تجھ کو اعتماد
ہم کبھی دنیا میں ہو سکتے نہیں وجہِ فساد
اپنی ملت پر کریں گے اپنی جانوں کو نثار
اپنی جانبازی کی دکھلانا ہے ہم کو بھی بہار
ہم نہیں ہیں وہ کہ آئینِ رضا کو چھوڑ دیں
جب پڑے کوئی مصیبت تو وفا کو چھوڑ دیں
یہ اسیری ہر رگ دل کے لیے ہے نیشتر
تابکے زخم دروں سے کم نگاہی چارہ گر
تابکے ذوقِ وفا میں جاں سپاری کا خیال
مرہمِ زنگار سے کب تک امیدِ اندمال
انتظارِ مہربانی و عنایت تابکے
امتحانِ شیوۂ ضبطِ شکایت تابکے
علامہ محوی صدیقی لکھنوی
محمد حسین صدیقی
No comments:
Post a Comment