Saturday, 28 March 2026

اے حکومت چاہیے ہم پر بھی تجھ کو اعتماد

 اے حکومت چاہیے ہم پر بھی تجھ کو اعتماد

ہم کبھی دنیا میں ہو سکتے نہیں وجہِ فساد

اپنی ملت پر کریں گے اپنی جانوں کو نثار

اپنی جانبازی کی دکھلانا ہے ہم کو بھی بہار

ہم نہیں ہیں وہ کہ آئینِ رضا کو چھوڑ دیں

جب پڑے کوئی مصیبت تو وفا کو چھوڑ دیں

یہ اسیری ہر رگ دل کے لیے ہے نیشتر

تابکے زخم دروں سے کم نگاہی چارہ گر

تابکے ذوقِ وفا میں جاں سپاری کا خیال

مرہمِ زنگار سے کب تک امیدِ اندمال

انتظارِ مہربانی و عنایت تابکے

امتحانِ شیوۂ ضبطِ شکایت تابکے


علامہ محوی صدیقی لکھنوی

محمد حسین صدیقی

No comments:

Post a Comment