Wednesday, 18 March 2026

جب کہ ماضی سے بہت پست بھی حال اچھا ہے

 جبکہ ماضی سے بہت پست بھی حال اچھا ہے 

پھر تو مستقبل رنگیں کا خیال اچھا ہے

جس کا جو ذوق ہو اس کو وہی آتا ہے پسند 

میں تو کہتا ہوں کہ دونوں کا خیال اچھا ہے

کچھ الیکشن میں تو کچھ نام پہ غالب کے کماؤ 

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

چارہ گر کہتے ہیں بس موت کی باقی ہے کسر 

اور ہر طرح سے بیمار کا حال اچھا ہے

نہیں معلوم اگر سانپ کا منتر تو نہ پھنس 

ہاتھ اس سانپ کی بانبی میں نہ ڈال اچھا ہے

جو بھی ہارے گا وہی گالیاں دے گا اس کو 

جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

ڈھونڈئیے خیر سے جا کر کوئی موٹی سسرال 

ہاتھ جو مفت میں آئے تو وہ مال اچھا ہے

بین ہی بین گزرتے رہو اس وادی سے 

نہ حرام اچھا ہے بالکل نہ حلال اچھا ہے

ایک ہم تھے جو سیاست میں کما پائے نہ کچھ 

ورنہ ماضی کے فقیروں کا بھی حال اچھا ہے

جتنے ہیں دہر میں ہاتھوں کی صفائی کے کمال 

سب سے اے دوست گرہ کٹ کا کمال اچھا ہے

جس کی بچپن ہی میں شادی ہو وہ کیا جانے غریب 

عشق میں ہجر ہے بہتر کہ وصال اچھا ہے

اور تو کچھ بھی نہیں حضرت ماچس لیکن 

آپ میں آگ لگانے کا کمال اچھا ہے


ماچس لکھنوی

No comments:

Post a Comment