Showing posts with label اعجاز دانش. Show all posts
Showing posts with label اعجاز دانش. Show all posts

Thursday, 4 January 2024

شہر نبی میں یا رب جب میری حاضری ہو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


شہرِ نبیؐ میں یا رب جب میری حاضری ہو

چہرے پہ تازگی ہو، آنکھوں میں روشنی ہو

بس ایک آرزو ہے، بس ایک جستجو ہے

بس آپؐ کا نگر ہو بس آپؐ کی گلی ہو

وہ لمحہ قیمتی ہے وہ لمحہ جاوداں ہے

جب دل مچل رہا ہو جب آنکھ میں نمی ہو

Wednesday, 27 December 2023

میں خواب نور سے بیدار ہو کے آیا ہوں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


میں خوابِ نُور سے بیدار ہو کے آیا ہوں

نبیؐ کے عشق سے سرشار ہو کے آیا ہوں

ہو انﷺ کی محفلِ میلاد کا بیاں کیسے

میں گویا آپؐ کے دربار ہو کے آیا ہوں

میں جان دے دوں گا آقاؐ تمہاری عزت پر

میں گھر سے ہر طرح تیار ہو کے آیا ہوں

Tuesday, 26 December 2023

آنکھوں کو ادھر شہر مدینہ نظر آیا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


آنکھوں کو اُدھر شہرِ مدینہ نظر آیا

ہر سمت اُجالا ہی اُجالا نظر آیا

ہر شخص تِرےؐ عشق میں ڈُوبا ہُوا دیکھا

ہر شخص تِریؐ دید کا پیاسا نظر آیا

جس راہ سے گُزری مِرے آقاؐ کی سواری

بہتا ہُوا انوار کا دریا نظر آیا

Friday, 29 April 2022

لمحہ در لمحہ خوبصورت ہے

 لمحہ در لمحہ خوبصورت ہے

ہجر تو پورا خوبصورت ہے

وہ حسیں چہرے کے علاوہ بھی 

سر تا پا سارا خوبصورت ہے

کیا کوئی تیرا مستحق ہوگا

کیا کوئی اتنا خوبصورت ہے

Thursday, 29 April 2021

کب کہا ولیوں سے نسبت چھوڑ یار

 کب کہا ولیوں سے نسبت چھوڑ یار

ہاں مگر اندھی عقیدت چھوڑ یار

تُو ہوس ہی سے نہیں نکلا ابھی

تُو کرے گا کیا محبت، چھوڑ یار

چار دن کی زندگی ہے بات سن

کر محبت اور نفرت چھوڑ یار

Friday, 26 March 2021

تمہارے کہنے پہ کیا کیا نہیں بدلتے ہم

 تمہارے کہنے پہ کیا کیا نہیں بدلتے ہم

بس اپنے آپ کا حلیہ نہیں بدلتے ہم

بتائے جا کے کوئی خوش فہم منازل کو

"جو چل پڑیں تو ارادہ نہیں بدلتے ہم"

ذرا سا ہم بھی وفادار رہنا چاہتے ہیں

سو اپنے آپ کو سارا نہیں بدلتے ہم

Thursday, 18 March 2021

اگرچہ تو فقط اپنی طرف ہے

 اگرچہ تُو فقط اپنی طرف ہے

گُماں سب کو ہے کہ ان کی طرف ہے

ہے اک جانب خدا اک سمت میں ہوں

بتا اے شخص! تُو کس کی طرف ہے

خدا کی بندی! تم کیوں ڈر رہی ہو

خدا خود بھی محبت کی طرف ہے

Saturday, 13 March 2021

وہ لوگ بے مثال تھے کہاں گئے

 وہ لوگ بے مثال تھے کہاں گئے

جو میرے ہم خیال تھے کہاں گئے

جو لوگ تیر آزما تھے، اب بھی ہیں

جو لوگ میری ڈھال تھے کہاں گئے

کبھی تو پوچھ شہر کی ہواؤں سے

جو درد سے نڈھال تھے کہاں گئے

Friday, 12 March 2021

اداس لوگوں کے چہرے نکھرنے لگتے ہیں

 اداس لوگوں کے چہرے نکھرنے لگتے ہیں

وہ مسکرائے تو لمحے سنورنے لگتے ہیں

میں ان پہ سورۂ والناس پڑھ کے پھونکتا ہوں  

جو لوگ تیری گلی سے گزرنے لگتے ہیں

کسی کے آنے سے ملتی ہے زندگی ہم کو  

کسی کے جانے سے دوبارہ مرنے لگتے ہیں

Thursday, 11 March 2021

تجھ سے اتنی روشنی ہونے لگی

 تجھ سے اتنی روشنی ہونے لگی

چاند کو شرمندگی ہونے لگی

ان کو خود پہ اتنا طاری کر لیا

بیٹھے بیٹھے حاضری ہونے لگی

ہر کوئی تیری طرح لگنے لگا

ہر گلی تیری گلی ہونے لگی