عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
شہرِ نبیؐ میں یا رب جب میری حاضری ہو
چہرے پہ تازگی ہو، آنکھوں میں روشنی ہو
بس ایک آرزو ہے، بس ایک جستجو ہے
بس آپؐ کا نگر ہو بس آپؐ کی گلی ہو
وہ لمحہ قیمتی ہے وہ لمحہ جاوداں ہے
جب دل مچل رہا ہو جب آنکھ میں نمی ہو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
شہرِ نبیؐ میں یا رب جب میری حاضری ہو
چہرے پہ تازگی ہو، آنکھوں میں روشنی ہو
بس ایک آرزو ہے، بس ایک جستجو ہے
بس آپؐ کا نگر ہو بس آپؐ کی گلی ہو
وہ لمحہ قیمتی ہے وہ لمحہ جاوداں ہے
جب دل مچل رہا ہو جب آنکھ میں نمی ہو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
میں خوابِ نُور سے بیدار ہو کے آیا ہوں
نبیؐ کے عشق سے سرشار ہو کے آیا ہوں
ہو انﷺ کی محفلِ میلاد کا بیاں کیسے
میں گویا آپؐ کے دربار ہو کے آیا ہوں
میں جان دے دوں گا آقاؐ تمہاری عزت پر
میں گھر سے ہر طرح تیار ہو کے آیا ہوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آنکھوں کو اُدھر شہرِ مدینہ نظر آیا
ہر سمت اُجالا ہی اُجالا نظر آیا
ہر شخص تِرےؐ عشق میں ڈُوبا ہُوا دیکھا
ہر شخص تِریؐ دید کا پیاسا نظر آیا
جس راہ سے گُزری مِرے آقاؐ کی سواری
بہتا ہُوا انوار کا دریا نظر آیا
لمحہ در لمحہ خوبصورت ہے
ہجر تو پورا خوبصورت ہے
وہ حسیں چہرے کے علاوہ بھی
سر تا پا سارا خوبصورت ہے
کیا کوئی تیرا مستحق ہوگا
کیا کوئی اتنا خوبصورت ہے
کب کہا ولیوں سے نسبت چھوڑ یار
ہاں مگر اندھی عقیدت چھوڑ یار
تُو ہوس ہی سے نہیں نکلا ابھی
تُو کرے گا کیا محبت، چھوڑ یار
چار دن کی زندگی ہے بات سن
کر محبت اور نفرت چھوڑ یار
تمہارے کہنے پہ کیا کیا نہیں بدلتے ہم
بس اپنے آپ کا حلیہ نہیں بدلتے ہم
بتائے جا کے کوئی خوش فہم منازل کو
"جو چل پڑیں تو ارادہ نہیں بدلتے ہم"
ذرا سا ہم بھی وفادار رہنا چاہتے ہیں
سو اپنے آپ کو سارا نہیں بدلتے ہم
اگرچہ تُو فقط اپنی طرف ہے
گُماں سب کو ہے کہ ان کی طرف ہے
ہے اک جانب خدا اک سمت میں ہوں
بتا اے شخص! تُو کس کی طرف ہے
خدا کی بندی! تم کیوں ڈر رہی ہو
خدا خود بھی محبت کی طرف ہے
وہ لوگ بے مثال تھے کہاں گئے
جو میرے ہم خیال تھے کہاں گئے
جو لوگ تیر آزما تھے، اب بھی ہیں
جو لوگ میری ڈھال تھے کہاں گئے
کبھی تو پوچھ شہر کی ہواؤں سے
جو درد سے نڈھال تھے کہاں گئے
اداس لوگوں کے چہرے نکھرنے لگتے ہیں
وہ مسکرائے تو لمحے سنورنے لگتے ہیں
میں ان پہ سورۂ والناس پڑھ کے پھونکتا ہوں
جو لوگ تیری گلی سے گزرنے لگتے ہیں
کسی کے آنے سے ملتی ہے زندگی ہم کو
کسی کے جانے سے دوبارہ مرنے لگتے ہیں
تجھ سے اتنی روشنی ہونے لگی
چاند کو شرمندگی ہونے لگی
ان کو خود پہ اتنا طاری کر لیا
بیٹھے بیٹھے حاضری ہونے لگی
ہر کوئی تیری طرح لگنے لگا
ہر گلی تیری گلی ہونے لگی