وہ لوگ بے مثال تھے کہاں گئے
جو میرے ہم خیال تھے کہاں گئے
جو لوگ تیر آزما تھے، اب بھی ہیں
جو لوگ میری ڈھال تھے کہاں گئے
کبھی تو پوچھ شہر کی ہواؤں سے
جو درد سے نڈھال تھے کہاں گئے
وہ سامنے تھا اور میں سوچتا رہا
جو ذہن میں سوال تھے کہاں گئے
مجھے تو خیر عشق کھا گیا، مگر
جو تیرے سرخ گال تھے کہاں گئے
اعجاز دانش
No comments:
Post a Comment