Showing posts with label بدر جمالی. Show all posts
Showing posts with label بدر جمالی. Show all posts

Saturday, 21 August 2021

کب زلف دوتا ان کی پریشان نہیں ہے

 کب زُلف دوتا ان کی پریشان نہیں ہے

کب وحشت دل کا مِری سامان نہیں ہے

یادوں کو لگائے ہوئے سینے سے گزر جا 

یہ راہِ محبت ہے کچھ آسان نہیں ہے 

دنیا میں مجھے دولتِ جاوید ہے حاصل 

کیا دل میں مِرے آپ کا ارمان نہیں ہے 

Sunday, 15 August 2021

زندگی کا ہے یہ بھی کوئی ڈھنگ

 زندگی کا ہے یہ بھی کوئی ڈھنگ

نہ کوئی آرزو نہ کوئی امنگ

ہوش کا طور یا خرد کا رنگ

عاشقی کے لیے ہیں دونوں ننگ

عقل حیراں ہے اور فکر ہے دنگ

جلوہ اور وہ بھی سر بہ سر بے رنگ

دل کا جب افسانہ لکھ

 دل کا جب افسانہ لکھ

غم کو صاحبِ خانہ لکھ

بے گانے کو اپنا کہہ

اپنے کو بے گانہ لکھ

راز گدازِ شمع بتا

سوزِ دلِ پروانہ لکھ

Tuesday, 18 May 2021

اپنے چہرے پر کئی چہرے لیے

اپنے چہرے پر کئی چہرے لیے

ہم بڑے ہی پارسا بن کر جیئے

راز الفت کا چھپانے کے لیے

ضبط گریہ بھی کیا لب بھی سیئے

جن میں چلتی ہیں ہوائیں تیز تیز

ایسی راہوں میں جلائے ہیں دئیے

Monday, 17 May 2021

ہم نے آپ کے غم کو ہم سفر بنایا ہے

 ہم نے آپ کے غم کو ہمسفر بنایا ہے

یعنی، زندگانی کو معتبر بنایا ہے

ہر غمِ زمانہ کو دل میں دی جگہ ہم نے

خوب جو ملا اس کو خوب تر بنایا ہے

اینٹ اور پتھر کا گھر نہیں ملا تو کیا

دشمنوں کے دل میں بھی ہم نے گھر بنایا ہے