کب زُلف دوتا ان کی پریشان نہیں ہے
کب وحشت دل کا مِری سامان نہیں ہے
یادوں کو لگائے ہوئے سینے سے گزر جا
یہ راہِ محبت ہے کچھ آسان نہیں ہے
دنیا میں مجھے دولتِ جاوید ہے حاصل
کیا دل میں مِرے آپ کا ارمان نہیں ہے
کب زُلف دوتا ان کی پریشان نہیں ہے
کب وحشت دل کا مِری سامان نہیں ہے
یادوں کو لگائے ہوئے سینے سے گزر جا
یہ راہِ محبت ہے کچھ آسان نہیں ہے
دنیا میں مجھے دولتِ جاوید ہے حاصل
کیا دل میں مِرے آپ کا ارمان نہیں ہے
زندگی کا ہے یہ بھی کوئی ڈھنگ
نہ کوئی آرزو نہ کوئی امنگ
ہوش کا طور یا خرد کا رنگ
عاشقی کے لیے ہیں دونوں ننگ
عقل حیراں ہے اور فکر ہے دنگ
جلوہ اور وہ بھی سر بہ سر بے رنگ
دل کا جب افسانہ لکھ
غم کو صاحبِ خانہ لکھ
بے گانے کو اپنا کہہ
اپنے کو بے گانہ لکھ
راز گدازِ شمع بتا
سوزِ دلِ پروانہ لکھ
اپنے چہرے پر کئی چہرے لیے
ہم بڑے ہی پارسا بن کر جیئے
راز الفت کا چھپانے کے لیے
ضبط گریہ بھی کیا لب بھی سیئے
جن میں چلتی ہیں ہوائیں تیز تیز
ایسی راہوں میں جلائے ہیں دئیے
ہم نے آپ کے غم کو ہمسفر بنایا ہے
یعنی، زندگانی کو معتبر بنایا ہے
ہر غمِ زمانہ کو دل میں دی جگہ ہم نے
خوب جو ملا اس کو خوب تر بنایا ہے
اینٹ اور پتھر کا گھر نہیں ملا تو کیا
دشمنوں کے دل میں بھی ہم نے گھر بنایا ہے