مسکان لبوں پر آنکھوں میں تاروں کا سجانا مشکل ہے
دل توڑنا ہے آساں لیکن روتے کو ہنسانا مشکل ہے
ہے کانچ صفت دل سینے میں جب ٹوٹتا ہے پھر جڑتا نہیں
جس چیز سے دل اٹھ جاتا ہے پھر اس سے لگانا مشکل ہے
اے بلبل دل یوں غم پی کر مت چہک کہ اب لب کو سی لے
سب ساز بریدہ حال ہوئے اب راگ پرانا مشکل ہے