Showing posts with label انیس ابر. Show all posts
Showing posts with label انیس ابر. Show all posts

Sunday, 3 January 2021

مسکان لبوں پر آنکھوں میں تاروں کا سجانا مشکل ہے

 مسکان لبوں پر آنکھوں میں تاروں کا سجانا مشکل ہے

دل توڑنا ہے آساں لیکن روتے کو ہنسانا مشکل ہے

ہے کانچ صفت دل سینے میں جب ٹوٹتا ہے پھر جڑتا نہیں

جس چیز سے دل اٹھ جاتا ہے پھر اس سے لگانا مشکل ہے

اے بلبل دل یوں غم پی کر مت چہک کہ اب لب کو سی لے

سب ساز بریدہ حال ہوئے اب راگ پرانا مشکل ہے

Saturday, 26 December 2020

ہر ایک پل مجھے دکھ درد بے شمار ملے

 ہر ایک پل مجھے دکھ درد بے شمار ملے

خدا کبھی تو میرے دل کو بھی قرار ملے

زمانہ دشمنِ جاں ہو گیا یہ غم ہے مگر

میرا نصیب کے خنجر بدست یار ملے

کیا ہو گی اس سے بھی بڑھ کر کسی کی محرومی

جسے نصیب میں تا مرگ انتظار ملے

Friday, 25 December 2020

لفظ یوں خامشی سے لڑتے ہیں

 لفظ یوں خامشی سے لڑتے ہیں

جس طرح غم ہنسی سے لڑتے ہیں

جانور جانور سے لڑتا ہے

آدمی آدمی سے لڑتے ہیں

موت کی آرزو میں دیوانے

عمر بھر زندگی سے لڑتے ہیں

Thursday, 24 December 2020

آج انساں کو تپتے صحرا میں بہتا دریا تلاش کرنا ہے

 مالِ دنیا تلاش کرنا ہے 

یعنی رتبہ تلاش کرنا ہے 

آج انساں کو تپتے صحرا میں 

بہتا دریا تلاش کرنا ہے 

تُو کنواری ہے کب سے اے دنیا 

تیرا رشتہ تلاش کرنا ہے 

Wednesday, 16 December 2020

لگا کے دل کوئی کچھ پل امیر رہتا ہے

 لگا کے دل کوئی کچھ پل امیر رہتا ہے

پھر اک عمر وہ غم میں اسیر رہتا ہے

کیوں ہاتھ دل سے لگاتے ہو بار بار اپنا

کیا دل میں اب بھی کوئی بے نظیر رہتا ہے

تیری زباں پہ قناعت کی بات ٹھیک نہیں

تیرے بدن پہ لباسِ حرِیر رہتا ہے

دیدہ تر میں کون رہے گا

 دیدۂ تر میں کون رہے گا

ڈوبتے گھر میں کون رہے گا

سب ہی آدھی موت مریں گے

رات نگر میں کون رہے گا

تجھ پہ جمی ہیں سب کی نظریں

تیری نظر میں کون رہے گا