Showing posts with label ضمیر یوسف. Show all posts
Showing posts with label ضمیر یوسف. Show all posts

Saturday, 30 December 2023

مژدہ کرم کا لے کر تشریف لا رہے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مُژدہ کرم کا لے کر تشریف لا رہے ہیں

سرکارؐ نور پیکرﷺ تشریف لا رہے ہیں

آدمؑ کو فخر جن پر نازاں ہیں جن پہ عیسیٰؑ

بے شک وہی پیمبرؐ تشریف لا رہے ہیں

محشر کی دُھوپ کا اب خطرہ نہیں ہے آقاؐ

اوڑھے کرم کی چادر تشریف لا رہے ہیں

Saturday, 2 December 2023

آدمیت ہوئی ذیشان تری نسبت سے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


آدمیت ہوئی ذیشان تِریﷺ نسبت سے

آدمی ہو گیا انسان تریﷺ نسبت سے

تیرے منگتوں نے زمانے میں حکومت کی ہے

سارے سلطانوں کے سلطان تریﷺ نسبت سے

کوئی حسانؓ ہوا کوئی بلالِؓ حبشی

بن گئے بُو ذرؓ و سلمانؓ تریﷺ نسبت سے

Saturday, 25 November 2023

چلو یہ مانا تمہاری زاہد عبادتوں میں کمی نہیں ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


چلو یہ مانا تمہاری زاہد عبادتوں میں کمی نہیں ہے

مگر نہ جس میں ہو عشقِ احمدﷺ وہ بندگی بندگی نہیں ہے

کہاں ملے گا حسیں یہ جلوہ یہ سبز گنبد یہ پاک روضہ

درِ نبیؐ سے میں جاؤں کیسے ابھی طبعیت بھری نہیں ہے

وسیع ہے مصطفیٰﷺ کی رحمت ہے دائرے میں ہمیشہ امت

شہِ اممﷺ کے کرم کی چادر کہاں بتاؤ تنی نہیں ہے

Friday, 24 November 2023

در مصطفیٰ سے ممکن نہیں سوگوار آئے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


درِ مصطفیٰﷺ سے ممکن نہیں سوگوار آئے

وہ کوئی گدا ہو چاہے کوئی تاجدار آئے

کبھی چاند اور ستارے نہ نظر ملائیں اس سے

جو درِ نبیﷺ سے دامن میں لیے غبار آئے

ہیں بڑے کریمؐ آقا وہ کرم کریں گے سب پر

کوئی مفلس و گدا، یا کوئی شہریار آئے

Tuesday, 5 April 2022

وہی چراغ تو بے موت مرتے رہتے ہیں

 وہی چراغ تو بے موت مرتے رہتے ہیں

جو ساز باز ہواؤں سے کرتے رہتے ہیں

صعوبتوں سے جو ہنس کر گزرتے رہتے ہیں

بلندیوں کو وہی زیر کرتے رہتے ہیں

ہمیشہ جن پہ ہم احسان کرتے رہتے ہیں

انہی کے تیر بھی دل میں اترتے رہتے ہیں

Wednesday, 9 March 2022

دنیا ہے کہ دیوار اٹھانے پہ تلی ہے

 دنیا ہے کہ دیوار اٹھانے پہ تُلی ہے

ہمت مِری منزل کو بھی پانے پہ تلی ہے

شہ زور بہت ہے یہ نئے عہد کی آندھی

تہذیب کی شمعوں کو بجھانے پہ تلی ہے

اے مصلحتِ دستِ ہنر! میں تِرے صدقے

کم ظرف کو فن کار بنانے پہ تلی ہے

Sunday, 9 January 2022

ہر شخص کی آنکھوں کو رسائی نہیں دیتا

 ہر شخص کی آنکھوں کو رسائی نہیں دیتا

وہ ساتھ ہی رہتا ہے، دِکھائی نہیں دیتا

حق بات بھی کانوں کو بھلی لگتی نہیں ہے

ہو عقل پہ پردہ تو سُجھائی نہیں دیتا

غیروں سے شکایت ہے جناب آپ کو، افسوس

اب ساتھ یہاں بھائی کا بھائی نہیں دیتا

Wednesday, 15 December 2021

ہم نے دل میں رکھی تھی قربتوں کی گنجائش

 ہم نے دل میں رکھی تھی قربتوں کی گنجائش

اس نے خود نکالی ہے رنجشوں کی گنجائش

لوگ ہیں خفا ہم سے، سچ ہے ہو نہیں سکتی

پتھروں کی بستی میں آئینوں کی گنجائش

شعلہ شعلہ موسم ہے، پھول پھول زخمی ہے

اب نہیں ہے شاخوں پر تتلیوں کی گنجائش

Sunday, 7 November 2021

نظر کو تیر ادا کو کماں بناتے ہیں

 نظر کو تیر، ادا کو کماں بناتے ہیں

یہ دیکھیۓ وہ کسے نیم جاں بناتے ہیں

ہماری ذات ہے خود کارواں بھی ، محفل بھی

ہم انجمن نہ کوئی کارواں بناتے ہیں

تمہیں یہ حق ہے گھٹاؤں کا انتظار کرو

سفر میں دھوپ کو ہم سائباں بناتے ہیں

Saturday, 6 November 2021

ہاتھ میرے بھی اگر دل کے خزانے لگ جائیں

 ہاتھ میرے بھی اگر دل کے خزانے لگ جائیں

جتنے غم ہیں مِرے پل بھر میں ٹھکانے لگ جائیں

اتنا کمزور نہ کر اپنے شجر کو مولا

خشک پتے بھی اسے آنکھ دکھانے لگ جائیں

بند مانا کہ ابھی بابِ عطا ہے، پھر بھی

سر کو ہم اپنے ہر اک در پہ جھکانے لگ جائیں