عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مُژدہ کرم کا لے کر تشریف لا رہے ہیں
سرکارؐ نور پیکرﷺ تشریف لا رہے ہیں
آدمؑ کو فخر جن پر نازاں ہیں جن پہ عیسیٰؑ
بے شک وہی پیمبرؐ تشریف لا رہے ہیں
محشر کی دُھوپ کا اب خطرہ نہیں ہے آقاؐ
اوڑھے کرم کی چادر تشریف لا رہے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مُژدہ کرم کا لے کر تشریف لا رہے ہیں
سرکارؐ نور پیکرﷺ تشریف لا رہے ہیں
آدمؑ کو فخر جن پر نازاں ہیں جن پہ عیسیٰؑ
بے شک وہی پیمبرؐ تشریف لا رہے ہیں
محشر کی دُھوپ کا اب خطرہ نہیں ہے آقاؐ
اوڑھے کرم کی چادر تشریف لا رہے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آدمیت ہوئی ذیشان تِریﷺ نسبت سے
آدمی ہو گیا انسان تریﷺ نسبت سے
تیرے منگتوں نے زمانے میں حکومت کی ہے
سارے سلطانوں کے سلطان تریﷺ نسبت سے
کوئی حسانؓ ہوا کوئی بلالِؓ حبشی
بن گئے بُو ذرؓ و سلمانؓ تریﷺ نسبت سے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
چلو یہ مانا تمہاری زاہد عبادتوں میں کمی نہیں ہے
مگر نہ جس میں ہو عشقِ احمدﷺ وہ بندگی بندگی نہیں ہے
کہاں ملے گا حسیں یہ جلوہ یہ سبز گنبد یہ پاک روضہ
درِ نبیؐ سے میں جاؤں کیسے ابھی طبعیت بھری نہیں ہے
وسیع ہے مصطفیٰﷺ کی رحمت ہے دائرے میں ہمیشہ امت
شہِ اممﷺ کے کرم کی چادر کہاں بتاؤ تنی نہیں ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
درِ مصطفیٰﷺ سے ممکن نہیں سوگوار آئے
وہ کوئی گدا ہو چاہے کوئی تاجدار آئے
کبھی چاند اور ستارے نہ نظر ملائیں اس سے
جو درِ نبیﷺ سے دامن میں لیے غبار آئے
ہیں بڑے کریمؐ آقا وہ کرم کریں گے سب پر
کوئی مفلس و گدا، یا کوئی شہریار آئے
وہی چراغ تو بے موت مرتے رہتے ہیں
جو ساز باز ہواؤں سے کرتے رہتے ہیں
صعوبتوں سے جو ہنس کر گزرتے رہتے ہیں
بلندیوں کو وہی زیر کرتے رہتے ہیں
ہمیشہ جن پہ ہم احسان کرتے رہتے ہیں
انہی کے تیر بھی دل میں اترتے رہتے ہیں
دنیا ہے کہ دیوار اٹھانے پہ تُلی ہے
ہمت مِری منزل کو بھی پانے پہ تلی ہے
شہ زور بہت ہے یہ نئے عہد کی آندھی
تہذیب کی شمعوں کو بجھانے پہ تلی ہے
اے مصلحتِ دستِ ہنر! میں تِرے صدقے
کم ظرف کو فن کار بنانے پہ تلی ہے
ہر شخص کی آنکھوں کو رسائی نہیں دیتا
وہ ساتھ ہی رہتا ہے، دِکھائی نہیں دیتا
حق بات بھی کانوں کو بھلی لگتی نہیں ہے
ہو عقل پہ پردہ تو سُجھائی نہیں دیتا
غیروں سے شکایت ہے جناب آپ کو، افسوس
اب ساتھ یہاں بھائی کا بھائی نہیں دیتا
ہم نے دل میں رکھی تھی قربتوں کی گنجائش
اس نے خود نکالی ہے رنجشوں کی گنجائش
لوگ ہیں خفا ہم سے، سچ ہے ہو نہیں سکتی
پتھروں کی بستی میں آئینوں کی گنجائش
شعلہ شعلہ موسم ہے، پھول پھول زخمی ہے
اب نہیں ہے شاخوں پر تتلیوں کی گنجائش
نظر کو تیر، ادا کو کماں بناتے ہیں
یہ دیکھیۓ وہ کسے نیم جاں بناتے ہیں
ہماری ذات ہے خود کارواں بھی ، محفل بھی
ہم انجمن نہ کوئی کارواں بناتے ہیں
تمہیں یہ حق ہے گھٹاؤں کا انتظار کرو
سفر میں دھوپ کو ہم سائباں بناتے ہیں
ہاتھ میرے بھی اگر دل کے خزانے لگ جائیں
جتنے غم ہیں مِرے پل بھر میں ٹھکانے لگ جائیں
اتنا کمزور نہ کر اپنے شجر کو مولا
خشک پتے بھی اسے آنکھ دکھانے لگ جائیں
بند مانا کہ ابھی بابِ عطا ہے، پھر بھی
سر کو ہم اپنے ہر اک در پہ جھکانے لگ جائیں