ہر شخص کی آنکھوں کو رسائی نہیں دیتا
وہ ساتھ ہی رہتا ہے، دِکھائی نہیں دیتا
حق بات بھی کانوں کو بھلی لگتی نہیں ہے
ہو عقل پہ پردہ تو سُجھائی نہیں دیتا
غیروں سے شکایت ہے جناب آپ کو، افسوس
اب ساتھ یہاں بھائی کا بھائی نہیں دیتا
فن کے لیے دل اپنا لہو اس نے کیا ہے
بے وجہ کسی کو وہ بڑائی نہیں دیتا
کس طرح وہ خوبی مِری تسلیم کریں گے
اندھوں کو تو آئینہ دکھائی نہیں دیتا
کہہ دیتا ہے ہر بات بھلی ہو کہ بُری ہو
آئینہ کبھی اپنی صفائی نہیں دیتا
کچھ اس کا بھی اندازِ نظر بدلا ہوا ہے
اب میں بھی ضمیر اس کی صفائی نہیں دیتا
ضمیر یوسف
No comments:
Post a Comment