Sunday, 9 January 2022

لہجے کی تیری تلخی دل میں اتر گئی ہے

 لہجے کی تیری تلخی دل میں اُتر گئی ہے

تیری یہ کج ادائی نقصان کر گئی ہے

تیری گلی میں اب کے ہنگامہ یہ ہوا ہے

لیلیٰ لبادہ اپنا آ کے تو دھر گئی ہے

وہ آ گئی ہے لیکن مجھ کو خبر نہیں ہے

میرے بغیر سب تک یارو خبر گئی ہے

ہر فن میں تم ہو یکتا ہر دل میں تم بسے ہو

اک اک تمہاری رحمت دیوانہ کر گئی ہے

آغاز شاعری کا جس کے لیے کِیا تھا

میری سخنوری میں وہ حور مر گئی ہے

کوئی کہو مجھے اب اس کی گلی میں آخر

بادِ نسیم کیوں کر آ کے ٹھہر گئی ہے

جب اس نے شاعروں میں تحسین و داد دی ہے

اس شعر اس غزل کو مشہور کر گئی ہے

بن جائے گا فسانہ اب کے تو دوستوں میں

میرے تو ہاتھ پر وہ آئینہ دھر گئی ہے

سُن سُن ہماری باتیں واعظ تمہیں خبر کیا

پیمانہ وہ نظر سے کب کے تو بھر گئی ہے

اس موڑ پر کھڑا ہوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے

جس موڑ سے وہ جاناں تنہا گزر گئی ہے

 

ساگر سلام

No comments:

Post a Comment